ایشیا
4 منٹ پڑھنے
بریکس کے وزرائے خارجہ کااجلاس، ایران جنگ اور تیل کی قلت پر غور
بھارت کی جانب سے بلاک کی صدارت سنبھالنے کے باوجودچینی وزیر خارجہ وانگ ای اس اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے ہیں کیونکہ بیجنگ اس وقت صدر شی جن پنگ کے ساتھ سربراہی اجلاس کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی کر رہا ہے
بریکس کے وزرائے خارجہ کااجلاس، ایران جنگ اور تیل کی قلت پر غور
بریکس اجلاس / AFP

برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل برکس (BRICS) گروپ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس جمعرات کو بھارت میں شروع ہو گیا ہے۔

 اجلاسوں میں  میں مشرق وسطیٰ کے تنازع اور اس سے پیدا ہونے والے ایندھن کے بحران پر بات چیت کا امکان ہے۔

بھارت، جو اس سال برکس کی صدارت کر رہا ہے، اس وسیع البنیاد بلاک کے وزرائے خارجہ کے دو روزہ اجلاس کی مہمانی کر رہا ہے۔

اس گروپ میں اب ایران اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں جو کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے شروع کیے گئے تنازع پر ایک دوسرے کے مخالف کھڑے ہیں۔ بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مذاکرات کا محور "باہمی دلچسپی کے عالمی اور علاقائی مسائل" ہوں گے۔

بھارت کی جانب سے بلاک کی صدارت سنبھالنے کے باوجودچینی وزیر خارجہ وانگ ای اس اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے ہیں کیونکہ بیجنگ اس وقت صدر شی جن پنگ کے ساتھ سربراہی اجلاس کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی کر رہا ہے۔

 بھارت میں ایرانی سفارت خانے کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی بدھ کی رات دیر گئے نئی دہلی پہنچے۔

 روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں جنہوں نے بدھ کی شام نئی دہلی پہنچنے کے بعد اپنے بھارتی ہم منصب سبرامنیم جے شنکر سے ملاقات کی۔

جے شنکر نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی بات چیت میں "تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی اور رابطے کے ساتھ ساتھ "عالمی اور کثیر الجہتی مسائل" شامل تھے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ایک غیر یقینی اور غیر مستحکم عالمی ماحول میں ہمارا سیاسی تعاون اور بھی زیادہ قیمتی ہے، خلیجی بحری راستوں اور آبنائے ہرمز کے آس پاس کی رکاوٹیں تیل اور گیس کی منڈیوں میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں، جس سے بھارت سمیت توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

 ایران سے منسلک اس تنازع نے بھارت کی معیشت پر اضافی دباؤ ڈالا ہے، جو مشرق وسطیٰ سے توانائی کی سپلائی اور کھاد کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے اور اس نے نئی دہلی کی اقتصادی ترقی کے منظر نامے کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

برکس کو 2009 میں بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ایک فورم کے طور پر قائم کیا گیا تھا جو مغربی طاقتوں کے غلبے والے اداروں میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ یہ گروپ، جو اصل میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل تھا، اب وسعت اختیار کر چکا ہے کیونکہ ارکان نے اس بلاک کے عالمی سیاسی اور اقتصادی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ اب اس میں مصر، ایتھوپیا، ایران، انڈونیشیا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، اگرچہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا تمام رکن ممالک کے نمائندے اس اجلاس میں شرکت کریں گے یا نہیں۔

وزارت خارجہ نے بتایا کہ بھارت اس سال کے آخر میں رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کا انعقاد کرے گا جبکہ  وزرائے خارجہ وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں گے۔

 بعض ارکان کے درمیان گہرے اختلافات، بشمول مشرق وسطیٰ کی جنگ اور مغربی طاقتوں پر تنقید کی وجہ سے، یہ واضح نہیں تھا کہ اجلاس کے اختتام پر کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا یا نہیں۔ بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان جیسوال نے مزید کہا کہ جیسے جیسے معاملات آگے بڑھیں گے ہم آپ کو آگاہ کریں گے۔"

اس بلاک کا مقصد متبادل مالیاتی میکانزم بنانا، ڈالر پر انحصار کم کرنا، اور بین الاقوامی اداروں میں گلوبل ساؤتھ کی نمائندگی بڑھانا ہے جو مغربی قیادت والے حکمرانی کے ڈھانچے کو چیلنج کرتا ہے۔

بھارت کی 2026 کی برکس صدارت کا موضوع لچک، جدت، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیرہے۔

مجموعی طور پر، برکس ممالک دنیا کی 40 فیصد سے زیادہ آبادی اور عالمی جی ڈی پی کے 32 فیصد سے زیادہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

 

دریافت کیجیے
جنگ بندی ختم ہوتے ہی روس نے  یوکرین پر ڈرون حملہ کر دیا
یورپی یونین "یہود دشمن" ہے: ایتمار بن گویر
قانون سازوں نے اسٹارمر سے استعفی کا مطالبہ کر دیا
ایران جنگ کی لاگت سے امریکی شہریوں کو 37 بلین ڈالر سے زیادہ کی اضافی توانائی کی قیمتوں کا سامنا ہے — رپورٹ
بیلجیئم ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے:میکسیم پرِیوُو
امید ہے ہم کامیاب ہو جائیں گے: کالاس
ایشیاءتوانائی کے بڑے جھٹکوں کے لئے تیار ہو رہا ہے
سابق تھائی وزیراعظم شیناواترا کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا
جب تک جوہری مواد موجود ہے معاملہ ختم نہیں ہو گا: نیتن یاہو
مشرقی کونگو میں دہشتگردانہ حملے،21 افراد ہلاک
ٹرمپ کو ایران کا جواب پسند نہیں آیا،تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
روس، سلوواکیہ کو توانائی فراہم کرنے کی 'ہر ممکن' کوشش کرے گا: پوتن
اسرائیل نے عراق میں ایک خفیہ فوجی اڈّہ بنا لیا
اسرائیلی وزارتی کمیٹی اوسلو معاہدوں کی منسوخی کے بل پر بحث کرے گی
باکستان: کار بم دھماکہ اور فائرنگ، بارہ پولیس اہلکار ہلاک