مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں واقع مسجدِ اقصیٰ کے صحن آج بروز بدھ، چار روزہ عید الاضحیٰ کے پہلے دن ، نمازیوں سے بھر گئے۔
مسلمان اس دن ُسنّتِ ابراہیمی کو تازہ کرتے۔ جانوروں کی قربانی کرتے اور قربانی کا گوشت معاشرے کے غریب افراد میں تقسیم کرتے ہیں۔
اسلامی تقویم کی اہم ترین عیدوں میں سے ایک، عید الاضحیٰ، اس سال اکتوبر 2025 سے نافذ جنگ بندی معاہدے کی مسلسل اسرائیلی خلاف ورزیوں کے دوران منائی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین اور فلسطینی سرکاری میڈیا کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق عید سے قبل، اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی فلسطینی علاقوں میں چھاپے مارے، تاجروں کو دکانیں بند کرنے پر مجبور کیا اور علاقے کے رہائشیوں پر حملے کیے۔
یہ چھاپے اس وقت مارے گئے جب عید کی تیاریوں میں مصروف شہریوں کی وجہ سے بازار بھرے ہوئے تھے، خاص طور پر اس وقت جب فلسطینی حکومت نے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کا جزوی حصہ ادا کیا تھا۔
عینی شاہدین نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ مرکزی چھاپہ الخلیل کے جنوب میں واقع دورا قصبے پر مارا گیا۔ اسرائیلی فوجی گاڑیاں شدید رش کے دوران قصبے کے مرکز میں داخل ہوئیں، فوجی سڑکوں پر پھیل گئے، آنسو گیس کے گولے فائر کیے اور تاجروں کو دکانیں بند کرنے پر مجبور کیا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیلی فوج نے اکتوبر 2023 میں غزہ میں شروع ہونے والی کارروائی کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں گرفتاریوں، چھاپوں، گھروں کی تلاشیوں اور املاک کی تباہی سمیت کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔













