امریکہ جنوبی کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے مشرقی بحرالکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شبہ میں ایک کشتی پر حملہ کیا ہے۔
اطلاع کے مطابق یہ کارروائیکمانڈر جنرل فرانسس ایل ڈونووان کے حکم پر جنوبی سپیئر مشترکہ ٹاسک فورس کی جانب سے کی گئی ہے۔
امریکہ جنوبی سپیئر کمانڈ دفتر نے منگل کے روز ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "انٹیلی جنس نے تصدیق کی ہے کہ کشتی مشرقی بحرالکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ کے معروف راستوں پر سفر کر رہی تھی اور منشیات کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھی"۔
کمانڈ نے اس کارروائی کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس آپریشن کے دوران ایک "نارکو-دہشت گرد" مارا گیا جبکہ دو افراد زندہ بچ گئے ہیں۔ امریکی فوج کے کسی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
کمانڈ نے مزید کہا ہے کہ کارروائی کے بعد زندہ بچ جانے والوں کے لیے تلاش و بچاو نظام کو فعال کرنے کے لیے فوری طور پر امریکی کوسٹ گارڈ کو اطلاع دے دی گئی ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے سمندری راستے سے امریکہ آنے والی منشیات کی اسمگلنگ کو تقریباً ختم کر دیا ہے اور دعویٰ کیا تھا کہ سمندری اسمگلنگ میں 97 فیصد کمی آئی ہے۔













