فوکس ٹی وی چینل کے ٹرے یِنگسٹ سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران مطالبات قبول نہیں کرتا تو اس ملک کو "ہوا میں اڑانا" ضروری ہوگا یا نہیں، یہ وقت کا معاملہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو مکمل طور پر ختم کر دینا، اس کا معاشی طور پر دیوالیہ نکال دینا یا کسی معاہدے تک پہنچنا ہمارے متبادلوں میں شامل ہے۔
یہ بیانات تہران انتظامیہ کے اس انتباہ کے بعد آئے جن میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکہ یا مشرقِ وسطیٰ میں کسی ملک نے غلطی کی تو انہیں سخت حملوں سے نشانہ بنایا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے علاقے میں موجود امریکی شہریوں کے لیے حفاظتی انتباہ جاری کیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محیبی نے امریکہ کے ممکنہ نئے حملے کے بارے میں کہا، "اگر نیا حملہ ہوا تو ہماری دفاعی اور حملہ آور کارروائیاں پوری طرح سے بدل جائیں گی۔ اگر نیا حملہ ہوا تو ہم ہتھیاروں اور جنگ کے جغرافیے کو تبدیل کر دیں گے۔"
محیبی نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں امریکہ اور اسرائیل کے کسی ممکنہ نئے حملے کے امکان کا جائزہ لیتے ہوئے کہا :
"اگر نیا حملہ ہوا تو ہماری دفاعی اور حملہ آور حکمتِ عملیاں مکمل طور پر بدل جائیں گی۔ نئی صلاحیتوں سے لیس کرکے ہم ایک نئے مسلح میدان میں داخل ہوں گے جسے دیکھ کر دنیا دنگ رہ جائے گی۔ ہمارا ہدف پرانے اہداف نہیں ہوں گے۔ ہم نے تاحال حملہ نہ کیے جانے والے اہداف کا انتخاب کیا ہے۔"
















