جنوب مشرقی ایشیا کی فضائی کمپنی 'ایئر ایشیاء' نے کینیڈا ساختہ 150 عدد ایئر بس اے220۔300 جیٹ طیاروں کی خرید کے 19 ارب ڈالر مالیت کے معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔
کم لاگت پر خدمات فراہم کرنے والی فضائی کمپنی 'ایئر ایشیاء'نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہم،مستقبل میں بڑھنے والی طلب کو پورا کرنے کے لئے اس آرڈر کو دوگنا بھی کر سکتے ہیں"۔
معاہدے کا اعلان 'ایئر بس' کی کینیڈا کے شہر 'میرابیل' میں واقع تنصیب سے کیا گیا ہے اور اس معاہدے کو ملائیشیا کی تاریخ کا سب سے بڑا آرڈر سمجھا جا رہا ہے۔
ایئر ایشیاء کے شریک بانی ٹونی فرنینڈس نے اس معاہدے کو "ترقی کے اگلے مرحلے کے لئے ایک بہترین ذریعہ" قرار دیا اورکہا ہے کہ " یہ آرڈر ہمارے طویل مدتی نظم و ضبط کی اور ہمارے اہداف میں وسعت کی عکاسی کرتا ہے"۔
جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی اور کم لاگت والی فضائی کمپنی 'ایئر ایشیاء'نے کہا ہےکہ "معاہدے کی رُو سے ہم اپنے آرڈر کو ، مستقبل کی طلب کو پورا کرنے کے لیے، A220 نوعیت کے 300 طیاروں تک بڑھا سکتے ہیں"۔
ایئر بس کمرشل ایئر کرافٹ کے 'سی ای او' لارس ویگنر نے کہا ہےکہ A220 طیارے "پورے ایشیا میں ایسی نئی پروازوں کے راستے کھولیں گے جو پہلے ممکن نہیں تھے"۔
ویگنر نے مزید کہا ہے کہ جب 2028 میں نیا فضائی بیڑا فراہم کیا جائے گا تو بڑے طیاروں کو شمالی امریکہ، آسٹریلیا اور یورپ کے طویل فاصلے والے روٹوں پر لگایا جا سکے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس آرڈر کے ساتھ ایئر ایشیاء، A220 کے نئے 160 نشستوں والے ماڈل کی "عالمی لانچ گاہک" بن گئی ہے۔
تقریب میں شریک کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہاہے کہ"150 طیارے کینیڈا کی فیکٹریوں میں کینیڈین کارکنوں کی مدد سے تیار کیے جائیں گے۔ ہزاروں انجینئر، الیکٹریشن، اسٹیل ویلڈر اور آئی ٹی ماہرین کے لیے یہ ایک جاذب تنخواہ والا دلچسپ کام ہوگا"۔
واضح رہے کہ A220 ٹائپ طیاروں کی پیداوار کے باعث کینیڈا، یورپ سے باہر وہ واحد ملک ہے جو ایئر بس کے ایک بڑے پروگرام کی میزبانی کرتا ہے۔








