لبنانی حکام کے مطابق، جنوبی لبنان میں ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنا کر کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے 9 شامی پناہ گزین جاں بحق ہو گئے ہیں، جن میں 6 بچے بھی شامل ہیں۔
لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی NNA نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی شہر صیدا (Saida) کے قریب واقع قصبے عدلون (Adloun) میں عام شہریوں کے ایک گھر پر بمباری کی۔
لبنانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ملبے سے نکالی جانے والی لاشیں ایک ہی خاندان کے افراد کی تھیں۔
امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے بعد 17 مئی سے جنگ بندی میں 45 دنوں کی توسیع کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، یاد رہے کہ یہ جنگ بندی پہلی بار 17 اپریل کو نافذ ہوئی تھی۔
یہ مہلک حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب لبنان کے ایک سینیئر فوجی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج دریائے لیطانی کے شمال میں واقع دیہاتوں میں داخل ہو چکی ہے اور جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ (Nabatieh) کے مضافات تک پہنچ گئی ہے۔
اسرائیلی افواج کئی قصبوں میں داخل ہو چکی ہیں، جن میں زوطر الشرقیہ (Zawtar al-Sharqiyah) اور شقيف ارنون (Shqif Arnoun) شامل ہیں، اور اس پیش قدمی کے ساتھ ہی جنوبی بلدیات پر حملوں اور دراندازی میں مزید اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اس تیز رفتار پیش قدمی کے جواب میں، لبنانی فوج نے ان دیہاتوں اور قصبوں سے اپنی چوکیاں خالی کر دی ہیں جو اسرائیلی کنٹرول میں آ چکے ہیں۔
فوجی ذرائع نے بتایا کہ یہ پسپائی اس وقت عمل میں لائی گئی تاکہ اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے، کیونکہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں لبنانی فوجی بھی جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے۔













