ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کویت میں ایک امریکی فضائی اڈے پر ایران کے ایک بالسٹک میزائل حملے میں چار امریکی سروس ممبران اور تین سول کنٹریکٹرز زخمی ہوئے، یہ حملہ جنوبی ایران میں ایک امریکی فضائی حملے کے جواب میں کیا گیا ۔
براڈکاسٹر سی بی ایس نیوز نے اطلاع دی ہے کہ ان سات افراد کو معمولی چوٹیں آئیں اور وہ 24 گھنٹوں کے اندر دوبارہ خدمات پر لوٹ آئے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی ایران کے بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب ایک امریکی فضائی حملے کے جواب میں کویت میں ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، فوج نے جوابی حملہ مقامی وقت کے مطا بق صبح 5 بجے کے قریب کیا جو ساحلی شہر کے ہوائی اڈے کے قریب ایک امریکی حملے کے چند گھنٹوں بعد ہوا جس میں فضائی پروجیکٹائل استعمال کیے گئے تھے۔
بعد ازاں ایک بیان میں، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ میزائل حملہ 'کویتی افواج نے کامیابی سے روک لیا'۔
علاقائی کشیدگی 28 فروری کو بڑھ گئی، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے بعد تہران نے ڈرونز اور میزائلوں کی برسات کے ذریعے خطے بھر میں اہداف کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔
8 اپریل کو پاکستانی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی نافذ ہو گئی، لیکن اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت ایک دیرپا معاہدہ قائم کرنے میں ناکام رہی۔
بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عارضی وقفے کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دیا، جبکہ اس اسٹریٹجک آبی راستے کے ذریعے ایرانی بندرگاہوں سے آنے یا جانے والے جہازوں پر بحری محاصرہ برقرار رکھا اور وقتاً فوقتاً کہا کہ امن معاہدہ قریب ہے۔









