اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ “ہمیں جمعرات کے روز لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کی ریکارڈ تعداد پر گہری تشویش ہے”۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ تنظیم کو "کشیدگی میں اضافے پر شدید تشویش" ہے اور ہم، بیروت کے جنوبی علاقوں پر اسرائیلی حملوں کے ساتھ ساتھ جنوبی اور مشرقی لبنان میں بڑھتے ہوئے حملوں پر بھی فکر مند ہیں۔
دوجارک نے کہا ہے کہ"ہم ایک بار پھر تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں اور مزید حملوں کو روکیں۔ ہم ایک دفعہ پھر اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو کسی صورت نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ہم شہریاموات کی بھی مذمت کرتے ہیں"۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے کے مطابق جمعرات کو عید الاضحیٰ کی تقریبات کے دوران اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے اور ملک کے جنوبی حصے میں نئی بے دخلیاں سامنے آئی ہیں۔
ضلع زہرانی میں عدلون ہائی وے پر ایک گاڑی پر ڈرون حملے میں بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے چھ افراد اور جنوبی شہر صور میں ایک موٹر سائیکل پر حملے میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
ایک اور حملے میں صیدا کے مشرق میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا گیاجس کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم سرکاری طور پر اموات کی تعداد نہیں بتائی گئی۔
یہ حملے اسرائیلی فوج کی جانب سے دریائے زہرانی کے جنوب میں انخلا ءکی وارننگ جاری کرنے اور حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے اعلان سے ایک دن بعد ہوئے ہیں۔
دوجارک نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی عبوری فورس برائے لبنان (یونیفل) نے بدھ کے روز گولہ باری کے تقریباً 670 واقعات ریکارڈ کیے ہیں۔ یہ تعداد 17 اپریل کو امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے نافذ ہونے کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یونیفل نے اسرائیلی فوج کی بھاری سرگرمیاں بھی دیکھی ہیں، جن میں فضائی حملے، بکتر بند گاڑیوں کی نقل و حرکت، انجینئرنگ آپریشن، اور دریائے لیتانی کے شمال میں زمینی کارروائیوں کی اطلاعات شامل ہیں۔
ترجمان نے کہا ہےکہ اقوامِ متحدہ کی لبنان کے لئے خصوصی رابطہ کار جینین ہینس۔پلاسخارٹ اور یونیفل کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ارولڈو لازارو کشیدگی میں کمی اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1701 پر عمل درآمد کے لئے فریقین کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی امدادی ادارے اوچا نے خبردار کیا ہےکہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران جاری کئے گئے نئے انخلا کے احکامات نے دریائے زہرانی کے جنوب میں صور اور نبطیہ سمیت لاکھوں افراد کو متاثر کیا ہے۔
دوجارک نے کہا ہے کہ "لبنانی خاندان ایک بار پھر ایسے حالات میں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں جو کسی بھی انسان کے لیے ناقابلِ برداشت ہیں۔صور اور صیدا میں اجتماعی پناہ گاہیں بے گھر انسانوں سے بھری ہوئی ہیں"۔











