دنیا
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل نے لبنان سے انخلاء کے مطالبے کو پینٹاگون میں مسترد کر دیا
پینٹاگون نے اسرائیل اور لبنان کی فوجی وفود کے لیے مذاکرات کی میزبانی کی، جس دوران اسرائیل نے لبنانی وفود کی جانب سے مطالبے کے باوجود جنوبی لبنان سے انخلاء کرنے سے انکار کر دیا ہے، اسرائیلی میڈیا
اسرائیل نے لبنان سے انخلاء کے مطالبے کو پینٹاگون میں مسترد کر دیا
امریکہ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کے متعدد ادوار کی میزبانی کی ہے، لیکن تل ابیب نے ان میں سے ہر ایک کی خلاف ورزی کی ہے۔ [فائل] / AA

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے امریکی ثالثی میں ہونے والی بات چیت کے دوران جنوبی لبنان سے اسرائیلی حملہ آور افواج کے انخلاء کے لبنانی  مطالبے  کو مسترد کر دیا ہے۔

اسرائیلی عوامی نشریاتی ادارے KAN نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے جمعے کو کہا کہ لبنان نے یہ معاملہ امریکی سر پرستی میں دونوں ممالک کے عسکری نمائندوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے دوران اٹھایا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ثالثوں کو آگاہ کیا کہ وہ  انخلاء نہیں کرے گا۔

KAN نے کہا کہ بات چیت میں ایک وسیع تر جنگ بندی کے امکان پر بھی غور کیا گیا، جس میں حزب اللہ کے ہتھیاروں پر بات چیت شامل  تھی۔

اس نشریاتی ادارے نے لبنانی میڈیا رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی اور لبنانی عسکری وفود براہِ راست بات چیت نہیں کر رہے، بلکہ تمام پیغامات امریکی ثالث کے ذریعے پہنچائے جا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق لبنان نے اُن شرائط کی وضاحت طلب کی جو اسرائیل نے اپنی فوجی مداخلت کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیں، جن میں 'فوری خطرہ' اور 'خطرات کے جواب' شامل ہیں، اور رپورٹس میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل، اسرائیلی اور لبنانی افواج کے درمیان براہِ راست رابطے کا ایک طریقہ کار چاہتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ  حزب اللہ پراسلحہ کی پابندی بھی ۔

لبنان تاہم کسی بھی براہِ راست تعاون کو رد کرتا ہے اور زور دیتا ہے کہ اولین ترجیح اسرائیلی حملے اور مداخلت ختم کروانا اور امریکی ثالثی کے ذریعے طے پانے والے انتظامات کی پابندی کو یقینی بنانا ہے۔

KAN نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ مذاکرات کے دوران اسرائیلی فوجی نمائندوں نے دریائے  لیطانی  کے شمال میں حزب اللہ کے ڈرونز اور عسکری تنصیبات پر خصوصی توجہ دی۔

امریکہ نے 'مثمر' مذاکرات کو سراہا

ایک امریکی اہلکار نے اجلاس کو مثمر قرار دیا، اور کہا کہ یہ آنے والی سفارتی مذاکراتی گفتگو کی تکمیل کرے گا۔

پینٹاگون کے نائب سربراہ ایلبریج کولبی نے ایکس پر کہا کہ میں نے  آج پینٹاگون میں اسرائیل اور لبنان کے عسکری وفود کی میزبانی کی ہے، یہ سیکورٹی ٹریک اُن دونوں ممالک کے درمیان جاری امن مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے فوجی سے فوجی مؤثر مذاکرات کیے جو اگلے ہفتے محکمہ خارجہ کے زیرِ قیادت سیاسی ٹریک کے لیے معلومات فراہم کریں گے۔

پینٹاگون نے ایک بیان میں کہا کہ وہ'غیر ریاستی مسلح عناصر سے پاک' لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔

اسرائیل نے 17 اپریل کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود، اور 17 مئی سے شروع ہونے والی 45 روزہ توسیع کے بعد بھی، جنوبی لبنان اور دیگر مقامات پر اپنی مداخلت اور حملے جاری رکھے ہیں، جو امریکہ کے ذریعے درمیان ثالثی مذاکرات کے بعد طے پائی تھیں۔

لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 2 مارچ سے اسرائیلی حملوں میں ملک بھر میں 3,355 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مذاکرات جاری رہنے کے باوجود وزارت صحت  نےاطلاع دی ہے کہ جمعہ کو اسرائیل نے جنوبی لبنان کے شہر صور کے تین علاقوں پر بمباری کی، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک امدادی کارکن اور ایک شامی شہری شامل ہیں۔

وزارت نے کہا کہ ایک امدادی کارکن سمیت  آٹھ افراد زخمی ہوئے ،  وزارت نے ان حملوں کو 'حقوقِ انسانی کی کھلم کھلا خلاف ورزی' قرار دیا۔