بحیرۂ کیسپین پائپ لائن کنسورشیم 'CPC' نے آج بروز اتوار جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ لائبیریا کے پرچم بردار ASIA اور مارشل جزائر کے پرچم بردار NISSOS IOS نامی دو تیل بردار ٹینکروں کو بحیرۂ اسود میں اس کے ٹرمینل کے قریب ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
سی پی سی کے مطابق حملے کے بعد تیل بھرائی کی تمام کاروائیاں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔
کنسورشیم نے کہا ہے کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان یا تیل کا اخراج نہیں ہوا، تاہم ASIA ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی، جسے ہنگامی امدادی ٹیموں نے بجھا دیا۔
سی پی سی نے اس حملے کی مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ ایک شہری تنصیب پر ہونے والا پانچواں "براہِ راست حملہ" قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ "بحیرۂ کیسپین پائپ لائن کنسورشیم میں روس، امریکہ، قازقستان اور مغربی یورپ کے متعدد ممالک کی بڑی ایندھن اور توانائی کمپنیاں شامل ہیں۔ کمپنی کی تنصیبات اور سی پی سی کے بحری ٹرمینل پر موجودسِول جہازوں پر حملہ کنسورشیم کے رکن ممالک کے مفادات پر بھی حملہ ہے۔"
پابندیوں سے مستثنیٰ کنسورشیم
کنسورشیم نے کہا ہےکہ اس پر کبھی بھی بین الاقوامی پابندیاں عائد نہیں کی گئیںاور یہ چیز عالمی توانائی کے تحفظ اور اس کے بین الاقوامی شیئر ہولڈروں کے مفادات کے لیے کنسورشیم کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
سی پی سی قازقستان کے تینگیز، کاشاغان اور کاراچاگاناک آئل فیلڈوں سے خام تیل کی ترسیل کرتا ہے۔
کنسورشیم کے مطابق، 2025 کے دوران اس نے تقریباً 70.5 ملین میٹرک ٹن خام تیل منتقل کیا، جس میں 75 فیصد سے زیادہ تیل غیر ملکی کمپنیوں کی ملکیت تھا۔
اس سے قبل یوکرین کی جنرل اسٹاف نے اعلان کیا تھا کہ اس نے بحیرۂ اسود میں روسی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ایندھن لے جانے والے دو ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔














