ایران پر تازہ امریکی حملوں میں جزیرۂ قشم پر کم از کم چھ میزائل گرے اور ملک کے جنوبی بندرگاہی شہر بندر عباس میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق جزیرہ قشم کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں ہیں۔
حکام نے تاحال ان حملوں کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا 'IRNA' کے مطابق بندر عباس اور جزیرہ قشم کے بعض علاقوں کے رہائشیوں نے مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بجے سے کچھ پہلے دھماکوں کی آوازیں سنیں۔
دھماکوں کی وجوہات اور ان کے درست مقامات کی تحقیقات جاری ہیں۔ مہر نیوز ایجنسی نے بعد میں شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ امریکی حملے میں قشم کے قریب ایک علاقے کو صبح 3:40 بجے نشانہ بنایا گیا ہے ۔
جوابی حملے
امریکی سینٹرل کمانڈ 'CENTCOM' نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ واشنگٹن نے مسلح افواج کے سپریم کمانڈر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ہفتے کے روز ایران کے خلاف فضائی حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ "آج مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے، امریکی افواج نے امریکی صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی ہدایت پر ایران کے خلاف نئے فضائی حملے شروع کئے ہیں۔ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایرانی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا اور گزشتہ رات اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے کرنے والی اسلامی انقلابی گارڈ کور 'IRGC' کی فورسز کو فوری سزا دینا ہے۔"













