اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں بے گھر فلسطینی بچوں میں خسرے کی بیماری کے کیسوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تقریباً 9,300 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ کا تعلق گنجان آباد شہر خان یونس سے ہے۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور 'OCHA' کی ایک رپورٹ کے مطابق، حد سے زیادہ بھیڑ، جمع ہونے والا کچرا، صاف پانی تک محدود رسائی اور سیوریج کے نظام کی تباہی نے اسرائیل کی طرف سے بے گھر کیے گئے فلسطینیوں کے کیمپوں میں متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو تیز کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بگڑتی ہوئی صورتحال نے محصور غزہ میں خسرے کو ایک بڑھتے ہوئے عوامی صحت کے بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق، غزہ میں سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والے طبی مسائل بدستور سانس کی بیماریاں اور جلد کی بیماریاں ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے مزید بتایا کہ خصوصاً خان یونس کے اطراف میں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ ہفتے چکن پاکس، بیرونی جلدی پرجووں کے حملوں اور بیکٹیریا سے ہونے والے جلدی انفیکشن کے 18,000 سے زائد نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
صحت کا تباہ حال نظام
اسرائیلی جنگ کے باعث غزہ کا نظامِ صحت شدید متاثر ہو چکا ہے۔ جنگ کے دوران اسپتالوں اور طبی بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے نتیجے میں ادویات، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
غزہ وزارتِ صحت نے جمعرات کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل 10 اکتوبر 2025 سے نافذ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ وزارت کے مطابق، ان حملوں میں اب تک 1,127 فلسطینی ہلاک اور 3,643 زخمی ہو چکے ہیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل، 7 اکتوبر 2023 سے جاری نسل کشی جنگ میں کم از کم 73,250 فلسطینیوں کو قتل اور 173,751 کو زخمی کر چکا ہے۔
وزارت نے مزید کہا ہے کہ غزہ کے تقریباً 90 فیصد شہری بنیادی ڈھانچہ یا تو شدید متاثر ہے یا مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔













