جاپان کے وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ یورپ کے بعض ممالک کی جانب سے جوہری دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے پیشِ نظر ٹوکیو کو بھی جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر قومی سطح پر بحث کی ضرورت ہے۔
روزنامہ کیوڈو نیوز کے مطابق، وزیرِ دفاع شنجیرو کوئزومی نے اتوار کے روز ایک آن لائن پروگرام میں کہا ہے کہ جاپان اب اس موضوع پر "بات کرنے سے گریز نہیں کر سکتا"۔
کوئزومی نے کہا ہےکہ جاپان کی سلامتی کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں "زیادہ سخت" ہو چکی ہے، اور ٹوکیو کو بعض موضوعات پر بحث کے ناقابلِ قبول ہونے کی سوچ سے نکلنا ہو گا۔
اپنے موقف کی حمایت میں انہوں نے فرانس اور فن لینڈ کی جانب سے اپنی جوہری دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے اختیار کردہ حکمتِ عملی کا بھی حوالہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ فن لینڈ کی پارلیمنٹ نے جون میں ایک ایسا بل منظور کیا تھا جس کے تحت ملک میں جوہری ہتھیار لانے کی اجازت دی جا سکتی ہے اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے مارچ میں اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک اپنے جوہری وارہیڈز کی تعداد میں اضافہ کرے گا۔
غیر جوہری اصولوں پر بحث
امریکہ کے جوہری دفاعی تحفظ پر انحصار کرنے والا جاپان تین غیر جوہری اصولوں کا پابند ہے: اپنے ملک میں جوہری ہتھیار نہ رکھنا، نہ بنانا اور نہ ہی ان کے داخلے کی اجازت دینا۔
وزیراعظم سانیے تاکائیچی کی حکومت کو گزشتہ سال دسمبر میں اس وقت اپوزیشن جماعتوں اور بعض ممالک کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جب جاپان کی سلامتی پالیسی سے متعلق ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا تھا کہ ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے چاہییں۔
سابق وزیرِ دفاع اِتسونوری اونودیرا نے بھی گزشتہ سال کے آخر میں کہا تھا کہ جاپان کو اپنے غیر جوہری اصولوں پر دوبارہ بحث کرنی چاہیے۔
جاپان دنیا کا واحد ملک ہے جس پر جنگ کے دوران ایٹم بم گرائے گئے۔
امریکہ نے دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے 6 اگست 1945 کو ہیروشیما اور 9 اگست 1945 کو ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے تھے۔













