آسٹریلیا براڈکاسٹنگ کارپوریشن 'اے بی سی' نے جمعے کے روز نشر کردہ خبر میں کہا ہے کہ ہنٹا وائرس سے متاثرہ مسافر بردار بحری جہاز میں موجود چھ افراد، ہالینڈ سے انخلا پرواز کے ذریعے آسٹریلیا پہنچنے کے بعد، قرنطینہ مرکزمیں منتقل کر دیئے گئے ہیں۔
اس گروپ میں چار آسٹریلوی شہری، ایک مستقل رہائشی اور ایک نیوزی لینڈ کا شہری شامل ہے۔
روانگی سے قبل ان افراد کے ٹیسٹ منفی نکلے تھے اور ان میں بیماری کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔
آسٹریلیا کے وفاقی وزیرِ صحت مارک بٹلر نے کہا ہے کہ ان افراد کی "صحت کی حالت اطمینان بخش ہے۔"
چھ افراد پر مشتمل اس گروپ کے، اضافی پی سی آر ٹیسٹ سمیت، مزید ٹیسٹ کئے جائیں گےاور انہیں تین ہفتوں کے قرنطینہ سے گزرنا ہوگا۔
بٹلر نے اس سے قبل کہا تھا کہ ہنٹا وائرس ظاہر ہونے کے تقریباً 42 روزہ عرصے کو مدّنظر رکھتے ہوئے اضافی نگرانی کے انتظامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
انخلا پرواز کے لیے استعمال ہونے والے طیارے کو بھی جراثیم سے پاک کیا جائے گا۔
عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او نے 4 مئی کو 'ایم وی ہونڈیئس' نامی مسافر بردار بحری جہاز پر سانس کی شدید درجے کی بیماری میں مبتلا مریضوں کو ہنٹا وائرس کے ایک کلسٹر کے طور پر تصدیق کیا تھا۔
ہنٹا وائرس ایک نادر بیماری ہے جو عموماً متاثرہ چوہوں یا ان کے فضلے کے ذریعے پھیلتی ہے تاہم موجودہ وبا کے ذمہ دار وائرس کی قسم انسانوں سے انسانوں کو منتقل ہو سکتی ہے۔
امریکہ کے بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام مرکز 'سی ڈی سی' نے اس وبا کو ادارے کے ہنگامی ردِعمل کی کم ترین سطح یعنی تیسرے درجے کا ایمرجنسی ردعمل قرار دیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے حکام کے مطابق اینڈس ہنٹا قسم کے وائرس والی اس وبا کے اب تک 11 کیس تشخیص ہو چکے ہیں۔ مریضوں میں سے تین کی اموات ہو چُکی ہیں۔














