سعودی عرب اور فرانس نے کہا ہے کہ ہم، فلسطین کو ریاست کا درجہ دینے کی حمایت جاری رکھیں گے ۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ فرانس کے اختتام پر سعودی عرب اور فرانس کے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل سے لبنان کے تمام علاقوں سے انخلا کے مطالبے کو دہرایا اور کہا ہے کہ ہم فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھیں گے۔
یہ بیان شہزادہ محمد بن سلمان اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان پیرس میں ہونے والی ملاقاتوں کے بعد جاری کیا گیا ہے۔
ان ملاقاتوں کے دوران دونوں رہنماؤں نے سعودی۔فرانسیسی اسٹریٹجک شراکت داری کونسل کے پہلے اجلاس کی مشترکہ صدارت بھی کی۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی استحکام کے حوالے سے ریاستی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور سفارتی حل پر مبنی مشترکہ نقطۂ نظر پر زور دیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری
فلسطین کے معاملے پر ریاض اور پیرس نے 1967 کی سرحدوں میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حق کو کمزور کرنے کی تمام کوششوں کو سختی سے مسترد کیا اور اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری پالیسیوں اور فلسطینی عوام پر آباد کاروں کے ظلم وتشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
دونوں ممالک نے غزہ میں پائیدار جنگ بندی کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کی اپیل کی اور فلسطین انتظامیہ کی اصلاحات کی حمایت کا بھی اظہار کیا ہے۔
دونوں ممالک نے، لبنان کے حوالے سے ،حتمی حل کی جانب کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عمل درآمد، ریاستی اختیار سے باہر مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیل کے لبنان کے تمام علاقوں سے انخلا کرنے کا مطالبہ کیاہے۔
ایران کے معاملے پر دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا ہےکہ تہران کے جوہری پروگرام کے حوالے حل بذریعہ مذاکرات ضروری ہے۔ دونوں ممالک نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ دوبارہ تعاون شروع کرنے کے لئے ایران کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے ۔
شام کے حوالے سے دونوں رہنماؤں نے ملک کے استحکام و معاشی بحالی کے عزم کا اظہار کیا اور مشترکہ سعودی۔شامی۔فرانسیسی بزنس کونسل کے قیام کا خیرمقدم کیا ہے۔




















