دنیا
3 منٹ پڑھنے
کیوبا- امریکا مذاکرات جمود کا شکار ہیں:ڈیاز کانیل
ڈیاز کانیل نے کہا کہ بات چیت کی خواہش موجود ہے اور ہماری حکومت کے حکام نے امریکی حکومت سے ملاقاتیں کی ہیں لیکن ابھی تک آگے بڑھنا ممکن نہیں ہو سکا ہے
کیوبا- امریکا مذاکرات جمود کا شکار ہیں:ڈیاز کانیل
کیوبا-امریکہ / AFP Archive

برازیل کے اخبار 'فولہا ڈی ایس پاولو'  کی رپورٹ کے مطابق، کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات جمود کا شکار ہیں اور اس کے لیے کوئی ایجنڈا طے نہیں ہے جبکہ انہوں نے کیوبا کے معاشی تباہی کے دہانے پر ہونے کے دعوؤں کو مسترد کر دیا۔

ڈیاز کانیل نے کہا کہ بات چیت کی خواہش موجود ہے اور ہماری حکومت کے حکام نے امریکی حکومت سے ملاقاتیں کی ہیں لیکن ابھی تک آگے بڑھنا ممکن نہیں ہو سکا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کیوبا واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کا راستہ قائم کرنے کا خواہاں ہے لیکن وہ دباؤ کے حالات میں مذاکرات کو مسترد کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دباؤ کے تحت بات چیت نہیں ہو سکتی، ہمیں بغیر کسی پیشگی شرط کے بات چیت کا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈیاز کانیل نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ کیوبا کا معاشی طور پر گلا گھونٹنے اور ایک ایسے سماجی  بحران  کو ہوا دینے کی کوشش کر رہی ہے جو کیوبا کے انقلاب کی تباہی کا سبب بنے۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ واشنگٹن کیوبا کے بچ نکلنے کے تمام راستے بند کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیانات کا حوالہ دیا۔

اینڈھن، بجلی، خوراک اور ادویات کی قلت کے باوجود انہوں نے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ ملک تباہی کے قریب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم خود کو ایک پیچیدہ صورتحال میں پاتے ہیں، لیکن یہ صورتحال کیوبا کے عوام کی زبردست تخلیقی صلاحیتوں اور تاریخی ثابت قدمی کی عکاس ہے۔

ڈیاز کانیل نے حکومتی بیوروکریسی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل اور اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر کا اعتراف کیا لیکن انہوں نے ملک کے معاشی بحران کی بنیادی وجہ امریکہ کی ناکہ بندی کو قرار دیا۔

'فولہا ڈی ایس پالو' میں نقل کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، ڈیاز کانیل کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے کیوبا کی معیشت میں 15 فیصد کی کمی آئی ہے۔ گہرے ہوتے ہوئے بحران کے ماحول میں ملک کو بجلی کی طویل بندش اور ایندھن کی قلت کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

ڈیاز کانیل نے جون میں کیوبا کی پارلیمان کی جانب سے منظور کردہ 176 معاشی اقدامات کے پیکیج کا دفاع کیا اور کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد ملک کے سوشلسٹ معاشی ماڈل کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ اقدامات نجی کاروباروں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے کردار کو وسعت دیتے ہیں، لیکن انہوں نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ یہ سرمایہ داری کی طرف جھکاؤ کا اشارہ ہیں۔

یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کیوبا پر معاشی دباؤ بڑھانے کے باعث ہوانا اور واشنگٹن کے درمیان تناؤ عروج پر ہے۔

ڈیاز کانیل نے کہا کہ ہوانا اپنی خودمختاری کا دفاع جاری رکھے گا اور بغیر کسی پیشگی شرط کے واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار رہے گا۔

 

دریافت کیجیے
امریکہ میں، 75 ممالک کے شہریوں پر عائد کردہ امیگرینٹ ویزے پر پابندی کالعدم قرار
امریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
اسرائیلی فوج کی جنوبی شام میں  ایک نئی فوجی کارروائی
غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے قصرہ میں تین فلسطینی گھروں کو گھیرے میں لے لیا
کینیڈا ہماری ریاست بنے بغیر تمام فوائد چاہتاہے:ٹرمپ
ہمسایہ ممالک امریکہ کا آلہ کار نہ بنیں ورنہ انجام ٹھیک نہ ہوگا:ایران
"اسرائیل پر پابندی ختم "کولومبیا کوئلہ برآمد کرےگا
جب تک اقتدار پر ہوں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں ہوگا:نیتن یاہو
ایران ' نہ جنگ ، نہ امن' کی صورتحال کا خاتمہ چاہتا ہے:پزشکیان
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
کولمبیا میں زلزلے سے اموات کی تعداد میں اضافہ؛ ترکیہ کی انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی
یوکرینی ڈراونز نے روسی علاقے ثمارا میں ایک صنعتی تنصیب اور اوزون گودام کو نشانہ بنایا
ترکیہ کی صدر ایردوان کے خلاف تبصروں پر اسرائیل کی مذمت