مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں جنوری سے جولائی کے عرصے کے دوران گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 63 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
فلسطین کےمحاصرہ دیوار و آبادکاری کے خلاف مزاحمت کے کمیشن نے کہا ہے کہ جنوری تا جولائی کے سات مہینوں پر محیط عرصے کے دوران غیرقانونی آبادکاروں کے 4,113 حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ تعداد 2,524 تھی۔
کمیشن نے کہا ہےکہ حملوں میں یہ اضافہ خاص طور پر مویشی بانی کے لئے قائم کئے گئے غیر قانونی آبادکاری مقامات کی تعداد میں اضافہ کئے جانے، آباد کاروں کو مسلح کیے جانے اور ان میں سے بعض کو سکیورٹی ڈھانچوں میں شامل کیے جانے کے ساتھ ہوا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے آباد کاروں کو فراہم کی جانے والی حفاظت اور حملہ آوروں کو دی گئی کھُلی چھُٹی نے بھی تشدد کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔
کمیشن کے مطابق، عالمی برادری کی جانب سے روک تھام اور جواب دہی کے حوالے سے ناکافی اقدامات کے باعث آباد کاروں کے حملے محض انفرادی واقعات نہیں رہے بلکہ مقبوضہ علاقے میں ایک نئی صورتِ حال پیدا کرنے اور فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے بے دخل ہونے پر مجبور کرنے کے لیے ایک منظم ہتھیار میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
کمیشن نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں 592 غیر قانونی اسرائیلی بستیاں اور آبادکاری مراکز موجود ہیں اور اسرائیل علاقے کے تقریباً 42 فیصد حصے پر غیر قانونی طور پر کنٹرول رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقبوضہ مشرقی القدس سمیت مغربی کنارے میں آباد غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کی تعداد جولائی کے اختتام تک تقریباً 780,000 تک پہنچ گئی تھی۔
فلسطینی سرکاری ذرائع کے مطابق غزہ پر اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجوں اور غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں 1,182 فلسطینی ہلاک، 12,000 سے زائد زخمی اور تقریباً 24,000 افراد کو گرفتار ہو چُکے ہیں۔













