یورپ کا مصروف ترین سفری سیزن ایندھن کی کمی کا خطرہ محسوس کر رہا ہے۔
ایران کے ساتھ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش نے ہوائی جہازوں کے ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث یورپ کے مصروف ترین سفری سیزن میں ایندھن کی قلت کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ یورپی یونین کے حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک کوئی قلت پیدا نہیں ہوئی، تاہم بدترین صورتحال کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
یورپ کی گرمیوں کی تعطیلات کے لیے فضائی ایندھن کے خطرہ کا قد و کاٹھ کیا ہے؟
یورپی یونین نے کہا ہے کہ "ہم، متبادل منصوبے کے طور پر امریکی کیروسین سمیت مختلف ترجیحات پر غور کر رہے ہیں"۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش نے فضائی ایندھن کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچا دیا اور یورپ کے مصروف سیاحتی موسم میں ایندھن کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
جمعے کے روز یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی 'EASA' امریکی ساختہ فضائی ایندھن “Jet A” کے استعمال کی اجازت دینے یا نہ دینے سے متعلق اپنی آراء جاری کرے گی ۔ یہ ایندھن تکنیکی وجوہات کی بنا پر اس وقت یورپ میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ اسی دوران یورپی کمیشن ان اقدامات کی تفصیلات بھی پیش کرے گا جن کے ذریعے رکن ممالک فضائی ایندھن کے استعمال کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اقدامات میں طیاروں میں ایندھن کی بھرائی اور ایئرپورٹ سلاٹس کی تقسیم جیسے پہلو شامل ہیں۔
یورپ کے فضائی ایندھن کے ذخائر کی صورتحال کیا ہے؟
برسلز نے زور دے کر کہا ہے کہ 27 رکنی یورپی یونین کو ابھی فضائی ایندھن کی قلت کا سامنا نہیں ہے۔ فضائی نقل و حمل کے ماہر میٹیو میرولو نے AFP سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اس مرحلے پر مسئلہ دستیابی سے زیادہ معاشی اور ایندھن کی قیمتوں کا ہے۔ لیکن ہمیں سپلائی کے بارے میں سوچنا ہوگا، خاص طور پر اس لیے کہ یہ بحران جس کا ہم سامنا کر رہے ہیں آخری نہیں ہوگا "۔
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے پہلے، یورپ میں استعمال ہونے والے تقریباً 20 فیصد کیروسین کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی تھی، جو حالیہ تنازعے کے باعث عملاً بند ہو چکی ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے ساتھ، خاص طور پر کم لاگت والی کئی ایئرلائنوں نے پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یورپی یونین کے توانائی کمشنر ڈین یورگنسن نے منگل کو کہا ہے کہ اگر بحران طویل ہوا تو برسلز ممکنہ"سپلائی سکیورٹی مسائل" کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ "ہم ابھی اس مرحلے پر نہیں پہنچے، لیکن ایسا ہو سکتا ہے"۔
یورپی کمیشن نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ یورپی یونین میں نقل و حمل کے ایندھن کی پیداوار، درآمدات، برآمدات اور ذخائر کی نگرانی کے لیے ایک "فیول آبزرویٹری" قائم کرے گا۔ توقع ہے کہ یہ ادارہ آنے والے دنوں میں کام شروع کر دے گا۔ اب تک یورپی یونین کے پاس رکن ممالک کے اسٹریٹجک ایندھن ذخائر کا کوئی جامع جائزہ موجود نہیں تھا۔ یورپی قوانین ممالک کو 90 دن کی خالص درآمدات اور 61 دن کی مقامی کھپت کے برابر تیل ذخیرہ رکھنے کا پابند بناتے ہیں، لیکن ان میں پٹرول، ڈیزل یا فضائی ایندھن جیسے مختلف مصنوعات کے درمیان فرق نہیں کیا جاتا۔
کمیشن کے ذرائع کے مطابق آئرلینڈ جیسے بعض ممالک، جہاں ریفائنری صلاحیت کم ہے، زیادہ خطرے میں ہیں، جبکہ فن لینڈ سمیت کچھ دیگر ممالک نسبتاً بہتر تیار دکھائی دیتے ہیں۔ انہی ذرائع نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ بعض ایئرلائنز ممکنہ طور پر اس بحران کو غیر منافع بخش روٹس ترک کرنے کے موقع کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔
یورپی یونین کیا اعلان کر سکتی ہے؟
اس مرحلے پر برسلز سے کسی بڑے نئے اقدام کی توقع نہیں کی جا رہی۔ تاہم کمیشن حکومتوں اور ایئرلائنز کو یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ کون سے موجودہ ذرائع بروئے کار لا کر فضائی ایندھن کو زیادہ مؤثر اور کم لاگت کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امکان ہے کہ ان قواعد میں نرمی کی جائے گی جو “ٹینکرنگ” کو محدود کرتے ہیں۔ “ٹینکرنگ” سے مراد وہ عمل ہے جس میں طیارے دوسرے ہوائی اڈوں پر مہنگا ایندھن خریدنے سے بچنے کے لیے ضرورت سے زیادہ ایندھن اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایئرپورٹ سلاٹس کے حوالے سے عارضی نرمی کے منصوبے بھی زیر غور ہیں تاکہ وہ ایئرلائنز جو بلند ایندھن قیمتوں کے باعث غیر معمولی طور پر اپنے سلاٹس چھوڑ دیتی ہیں، مستقبل میں سلاٹس کی تقسیم کے دوران سزا سے بچ سکیں۔
اگر بحران طویل ہوا تو یورپی یونین اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ رکن ممالک ہنگامی ذخائر جاری کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ رضاکارانہ بنیادوں پر فضائی ایندھن شیئر کریں۔
برسلز جمعے کے روز EASA سے اس بارے میں بھی رہنمائی کا منتظر ہے کہ آیا امریکہ میں تیار کردہ متبادل فضائی ایندھن کے استعمال کی طرف جانا مناسب ہوگا یا نہیں۔










