یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہےکہ کیف، ترکیہ کے زیرِ میزبانی سہ فریقی سربراہی اجلاس پر شرکت کے لئے "رضا مند" ہے۔
زیلنسکی نے صدر رجب طیب اردوعان سے ملاقات کے بعد اس اقدام کی مکمل حمایت کی۔ نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے ذیل میں ہونے والی مصروفیات کے دوران ٹرکش ہوم سے نکلتے وقت صحافیوں سے بات چیت میں زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین اور ترکیہ کے درمیان تعلقات "بہت مضبوط" ہیں۔
انہوں نے صدر اردوعان کے ساتھ اپنی ملاقات کو نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ صدر اردوعان نے سربراہی سطح پر سہ فریقی اجلاسوں کی میزبانی پر تیار ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اگر صدر اردوعان اس کا اہتمام کر سکتے ہیں تو ہم ترکیہ میں اس کے انعقاد کے خیال کی حمایت کریں گے۔ ہم ایسی سربراہی کانفرنس میں شرکت پر تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر اردوعان کے ساتھ ملاقات میں بحیرہ اسود میں میری ٹائم سیکیورٹی، ممکنہ بحری جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کے انتظامات اور بین الاقوامی فوڈ سیکیورٹی کوریڈور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترکیہ، بحیرہ اسود میں یوکرین کا بہت مضبوط شراکت دار ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے زیلنسکی نے کہا ہےکہ کیف اور انقرہ کا مقصد باہمی تجارتی حجم کو 1 بلین ڈالر سے بڑھا کر 10 بلین ڈالر کرنا ہے۔ ہم نے اپنے ممالک کے درمیان تجارت کو 1 بلین ڈالر سے بڑھا کر 10 بلین ڈالر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم اس سمت میں آگے بڑھ رہے اور بہت اچھے نتائج حاصل کر رہے ہیں۔

















