مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
ایران: امریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے
یہ مذاکرات 'ان کی جاری ثالثی اور نیک نیتی پر مبنی کوششوں کے ساتھ مل کر' ہوں گے تاکہ 'امریکہ کی مسلط کردہ جارحانہ جنگ' کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے اور خطے میں استحکام بحال کیا جا سکے۔
ایران: امریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے
نور خان ایئربیس، راولپنڈی پہنچنے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا پاکستانی حکام نے استقبال کیا۔ / Reuters

ایرانی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سینئر سفارتکار عباس عراقچی پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، تاہم امریکا کے ساتھ براہِ راست کسی ملاقات کا امکان نہیں ہے۔

اسماعیل بقائی نے ہفتہ کو کہا کہ عراقچی پاکستانی اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔

عراقچی کے استقبال پر پاکستان کے وزیر خارجہ اسحق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر سینئر عہدیدار موجود تھے۔

بقائی نے X  پر لکھا کہ یہ مذاکرات 'ان کی جاری ثالثی اور نیک نیتی پر مبنی کوششوں کے ساتھ مل کر' ہوں گے تاکہ 'امریکہ کی مسلط کردہ جارحانہ جنگ' کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے اور خطے میں استحکام بحال کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'ایران اور امریکا کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔ ایران کے مشاہدات پاکستان کو پہنچا دیے جائیں گے۔'

یہ مباحثے اس وقت ہو رہے ہیں جب پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

قبل ازیں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا تھا کہ امریکی خصوصی نمائندہ اسٹیو وِٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جارڈ کوشنر ہفتہ کو پاکستان کا سفر کریں گے تاکہ ایرانی نمائندوں سے بات چیت کریں۔

لیویٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ 'میں تصدیق کر سکتی ہوں کہ خصوصی نمائندہ اسٹیو وِٹکوف اور جارڈ کوشنر کل صبح دوبارہ پاکستان روانہ ہوں گے تاکہ پاکستانی ثالثی کے ذریعے ایرانی وفد کے نمائندوں کے ساتھ براہِ راست بات چیت کریں۔'

انہوں نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس امریکا میں رہیں گے، اگرچہ وہ 'اس پورے عمل کا بغور جائزہ لینے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

لیویٹ نے رپورٹرز سے کہا کہ صدر نے وِٹکوف اور کوشنر کو 'ایرانیوں کی بات سننے' کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

لیویٹ نے کہ'ہم نے حالیہ چند دنوں میں ایران کی جانب سے کچھ پیش رفت ضرور دیکھی ہے،' ۔ انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی کہ امریکی حکام کو کیا معلومات ملی ہیں۔

پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کو بحال کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ بات چیت یہ راہ ہموار کر سکتی ہے کہ اسلام آباد میں 11 تا 12 اپریل کو پہلے دور کی براہِ راست بات چیت کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں۔

یہ بات چیت پاکستان کی طرف سے 8 اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کرائے جانے کے بعد ہوئی تھی، جسے بعد ازاں ٹرمپ نے غیر معینہ طور پر بڑھا دیا۔

دریافت کیجیے
کریملن:پوتن زیلینسکی سے امن معاہدہ ہونے کی صورت میں ملاقات کے لیے تیار ہیں
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں نامور لبنانی صحافی امل خلیل کو ہلاک کر دیا
ترکیہ عالمی تجارتی راہداریوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہے: شیمشیک
متعدد ایرانی ٹینکر کامیابی سے امریکی ناکہ کاٹ چُکے ہیں
ایران کے قریب جہاز پر حملہ، عملہ محفوظ رہا
امریکی میزائل ذخائر میں 'نمایاں کمی' آئی ہے، مستقبل میں یہ صورتحال سنگین بن سکتی ہے: رپورٹ
یورپی یونین میں مہاجر آبادی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی
ایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ
اقوام متحدہ: ہم جنگ بندی میں توسیع کا خیرمقدم کرتے ہیں
"جنگ بندی میں توسیع " تیل کے حصص میں کمی،سرمایہ کار محتاط
فلپائن: وسیع پیمانے کی آتشزدگی درجنوں گھر تباہ
امریکہ: جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان ملتوی ہو گیا
ترک پہلوان نےکُشتی میں ریکارڈ قائم کر لیا
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ایک پبلک اسکول کو تباہ کر دیا ہے
"اسلام آباد مذاکرات"ایرانی وفد تاحال پاکستان نہیں پہنچ سکا