رائے
مشرق وسطی
4 منٹ پڑھنے
"ایران کی جنگ"کیا عالمی کساد بازاری متوقع ہے؟
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اگر لڑائی کی وجہ سے خلیجی خطے سے تیل، قدرتی گیس اور کھاد کی فراہمی میں خلل پڑتا رہا، تو کئی ممالک میں عام لوگوں کو ایندھن، ہیٹنگ اور خوراک کے لیے زیادہ قیمتیں ادا کرنی ہوں گی، جس کے اثرات برسوں تک برقرار رہ سکتے ہیں
"ایران کی جنگ"کیا عالمی کساد بازاری متوقع ہے؟
آبنائے ہرمز / Reuters
12 گھنٹے قبل

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو منگل تک کی مہلت دینے (جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا سامنا کرنے کا کہا گیا ہے) کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی آگئی ہے اور امریکی خام تیل 114 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا ہے۔

اتوار کے روز، امریکی خام تیل (US crude) 2.35 فیصد اضافے کے ساتھ 114.16 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ برینٹ خام تیل 1.72 فیصد اضافے کے ساتھ 110.91 ڈالر پر رہا۔

ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، جس میں سخت زبان استعمال کی گئی تھی، خبردار کیا کہ اگر یہ راستہ بند رہا تو ایران کے لیے صورتحال "جہنم" جیسی ہوگی۔ انہوں نے بجلی گھروں اور پلوں پر حملوں کی دھمکی بھی دی اور بعد میں صرف یہ لکھا: "منگل، شام 8:00 بجے مشرقی وقت!" (Tuesday, 8:00 P.M. Eastern Time!)، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

گزشتہ ہفتے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے سخت انتباہ جاری کیا تھا کہ ایران میں جاری جنگ عالمی معاشی ترقی کو سست کر سکتی ہے۔ واشنگٹن میں قائم اس تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر لڑائی کی وجہ سے خلیجی خطے سے تیل، قدرتی گیس اور کھاد کی فراہمی میں خلل پڑتا رہا، تو کئی ممالک میں عام لوگوں کو ایندھن، ہیٹنگ اور خوراک کے لیے زیادہ قیمتیں ادا کرنی ہوں گی، جس کے اثرات برسوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

آئی ایم ایف کا پیغام اس جنگ کی وسیع تر قیمت کی یاد دہانی ہے، جو 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوئی تھی اور اب اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے ادارے (FAO) کے چیف اکانومسٹ میکسمو ٹوریرو نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ٹینکروں کی آمد و رفت میں تعطل عالمی تجارتی بہاؤ کے لیے حالیہ برسوں کے شدید ترین جھٹکوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کھاد اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے غذائی تحفظ اور زرعی پیداوار کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی۔

ایران جنگ عالمی سپلائی کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟

عالمی تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اور قدرتی گیس کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ دنیا کی بحری کھاد کی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ بھی اسی علاقے سے ہوتا ہے۔ جب تنازع ان راستوں میں رکاوٹ ڈالتا ہے، تو مال بردار جہازوں کے لیے سامان کی بحفاظت ترسیل مشکل ہو جاتی ہے، جس سے قلت پیدا ہوتی ہے اور قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔

موڈیز اینالیٹکس کے چیف اکانومسٹ مارک زانڈی نے عام لوگوں پر پڑنے والے براہ راست اثرات کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے صارفین کی قوتِ خرید کم ہوگی، مہنگائی بڑھے گی اور جی ڈی پی (GDP) اور ملازمتیں متاثر ہوں گی۔

یورپ بھر کی حکومتیں اب اگلے موسم سرما میں ہیٹنگ کے بلوں میں ممکنہ اضافے کی تیاری کر رہی ہیں اور ان خاندانوں کے لیے اضافی سبسڈی پر غور کر رہی ہیں جو ادائیگی کی سکت نہیں رکھتے۔

آئی ایم ایف نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: "ایک مختصر تنازع مارکیٹ کی ایڈجسٹمنٹ سے پہلے قیمتوں کو عارضی طور پر بڑھا سکتا ہے، لیکن ایک طویل تنازع توانائی کو مہنگا رکھ سکتا ہے اور ان ممالک پر دباؤ ڈال سکتا ہے جو درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔"

ممالک پر مختلف اثرات

کچھ ممالک جو تیل اور گیس پیدا اور برآمد کرتے ہیں، جیسے کہ امریکہ، انہیں مختصر مدت میں فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ ان وسائل کی فروخت سے زیادہ کمائیں گے۔ تاہم، وہاں بھی عام خاندانوں کو پیٹرول پمپ پر زیادہ رقم ادا کرنی ہوگی۔

دوسری قوموں، خاص طور پر وہ جو اپنی توانائی کا زیادہ تر حصہ درآمد کرتی ہیں، کے لیے اثرات زیادہ تکلیف دہ ہوں گے۔ کاروباروں کو ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی قیمتیں بڑھانی پڑ سکتی ہیں، جو مجموعی مہنگائی کا باعث بنے گا۔

آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ کے آخر میں کہا: "اگر مشرق وسطیٰ میں تنازع خلیج سے نکلنے والے تیل، گیس اور کھاد کی مقدار کو روکتا رہا، تو تمام راستے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سست معاشی ترقی کی طرف لے جائیں گے۔"

 

 

دریافت کیجیے
پاکستان و افغانستان میں  شدید بارشیں،144 افراد ہلاک
یوکرینی صدر زیلینسکی ترک صدر  سے سلامتی مذاکرات کے لیے استنبول پہنچ گئے
ایم ایس ایف: اسرائیلی پابندیوں سے غزہ میں طبی سامان کی فراہمی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے
ترکیہ نے نیٹو کے قیام کی 77 ویں سالگرہ مناتے ہوئے میثاق کے کردار پر زور دیا
اسرائیل کے لبنانی دارالحکومت بیروت پر فضائی حملے جاری
ہندو کش میں 5.8 کی شدت کا زلزلہ، ابتدائی معلومات کے مطابق 6 افراد ہلاک
لاس اینجلس میں ترکیہ کی فٹ بال عالمی کپ میں واپسی کا بھر پور طریقے سے خیر مقدم
ایران کے مشرق وسطیٰ پر اور امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری
پینٹاگون نے امریکی فوج کے سربراہ کو ریٹائر اور دو جرنیلوں کو معزول کر دیا
صدر ایردوان: تیل کے لیے لڑی گئی جنگیں مستقبل میں پانی کی جنگ میں بدل جائیں گی
ابھی ہماری فوج نے ایران کے باقی ماندہ کو تباہ کرنا شروع نہیں کیا: ٹرمپ
ہم  نے امریکی ایف۔35 مار گرایا ہے: ایران
بین الاقوامی ماہرین کا انتباہ: ایران میں امریکی حملے جنگی جرائم کی حد تک پہنچ سکتے ہیں
ایران: آبنائے ہرمز 'دنیا' کے لیے کھلی لیکن 'دشمنوں' کے لیے بند ہے
یورپی کمیشن: ہم، آبنائے ہرمز میں آزادانہ سیروسفر کے لیے کام کریں گے