مشرق وسطی
2 منٹ پڑھنے
مسجد الاقصی پر دھاوا،ترکیہ کی مذمت
ترکیہ نے ایک اسرائیلی وزیر اور ان کے ساتھ آنے والے غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے گروپ کی جانب سے بدھ کو مسجد اقصیٰ پر کیے گئے دھاوے کی مذمت کی ہے
مسجد الاقصی پر دھاوا،ترکیہ کی مذمت
مسجد الاقصی / Reuters

ترکیہ نے ایک اسرائیلی وزیر اور ان کے ساتھ آنے والے غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے گروپ کی جانب سے بدھ کو مسجد اقصیٰ پر کیے گئے دھاوے کی مذمت کی ہے۔

ترک امور  خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم ایک اسرائیلی وزیر کی جانب سے آباد کاروں کے ایک گروپ کے ہمراہ مسجد اقصیٰ پر کیے جانے والے دھاوے کی مذمت کرتے ہیں۔"

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے مقدس مقام مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کی خلاف ورزی کرنے والے اشتعال انگیز اقدامات خطے میں تناؤ اور عدم استحکام کو مزید گہرا کرنے کا خطرہ پیدا کرتے ہیں۔

بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ اور مقبوضہ مشرقی  القدس  اور اس کے مقدس مقامات کو نشانہ بنانے والی اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

عبرانی کیلنڈر کے مطابق، 1967 میں اسرائیل کی جانب سے مشرقی  القدس پر کیے گئے قبضے کی سالگرہ منانے سے دو دن پہلے، اسرائیل کے ایک  وزیر اسحاق  واسرلاف نے بدھ کے روز مسجد اقصیٰ کے احاطے پر دھاوا بولا تھا۔

واسرلاف، جو کہ قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کی قیادت میں قائم سخت گیر دائیں بازو کی جماعت اوٹزما یہودت کے رکن ہیں، اس سے قبل بھی بن گویر کے ہمراہ اس احاطے میں داخل ہو چکے ہیں اور ان کے ان دوروں کی فلسطینیوں، مسلم اور عرب ممالک کی طرف سے شدید مذمت کی گئی ہے۔

سخت گیر دائیں بازو کے اسرائیلی گروپوں نے 1967 کے مشرقی  القدس  پر قبضے کی سالگرہ کے موقع پر مسجد کے احاطے میں مزید دراندازی کرنے کی اپیل کی ہے اور جمعرات کو بعد میں شہر میں ایک پرچم بردار  کی منصوبہ بندی بھی کی ہے۔

 

دریافت کیجیے