زیمبیا کے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ زیمبیا کے صدر ہاکائینڈے ہچیلیما پانچ سال کی دوسری مدت کے لیے دوبارہ صدر منتخب ہو گئے ہیں۔
گزشتہ روز 51 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے کے بعد، ہچیلیما کو گزشتہ جمعرات کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں دوسرے راؤنڈ کی ضرورت کے بغیر انتخابات کا حتمی فاتح قرار دے دیا گیا۔
کمیشن کے مطابق، ہچیلیما 2,965,326 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے؛ جبکہ ان کے قریبی ترین حریف اور اپوزیشن لیڈر برائن منڈوبیلے کو 1,856,217 ووٹ ملے۔
کمیشن کی چیئرپرسن موانگالا زالومس نے کہا کہ میں اعلان کرتی ہوں کہ 18 اگست 2026 کو ہچیلیما ہاکائینڈے زیمبیا کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔
ہچیلیما نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس جیت کے بعد عوام کی جانب سے ان پر کیے گئے اعتماد پر عاجزی محسوس کر رہے ہیں۔
زیمبیا کے الیکشن کمیشن کی چیئرپرسن زالومس کی جانب سے دارالحکومت لوساکا کے قومی انتخابی مرکز میں ان کی جیت کا اعلان کیے جانے کے کچھ ہی دیر بعد، ہچیلیما نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "شکریہ، زیمبیا۔ ہمارے ملک کے اعلیٰ ترین عہدے کو سنبھالنے اور ایک بار پھر آپ کا خادم بننے کے لیے جو اعتماد آپ نے ہم پر ظاہر کیا ہے، اس پر ہم واقعی خود کو معزز محسوس کرتے ہیں۔"
گزشتہ جمعہ کو ملک میں ووٹوں کی گنتی معطل کر دی گئی تھی اور الیکشن کمیشن نے بتایا تھا کہ انتخابی عملے کے کچھ ارکان پر حملے ہوئے ہیں اور کچھ بیلٹ پیپرز چوری کیے گئے ہیں، اس کے چند گھنٹے بعد سخت سیکیورٹی کے درمیان ووٹوں کی گنتی دوبارہ شروع کر دی گئی تھی۔
حکومت نے یہ بھی تصدیق کی کہ الیکشن کی رات اپوزیشن کے کئی سرکردہ رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا؛ پولیس نے ان پر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کا الزام عائد کیا۔
ہچیلیما کی جیت کا اعلان ہونے سے بہت پہلے ہی لوساکا کی سڑکیں پرجوش ہو چکی تھیں اور جیت کے باضابطہ اعلان کے طویل عرصے بعد بھی وہاں رونق برقرار رہی۔
ہچیلیما کے حامی اور حکمران جماعت یونائیٹڈ پارٹی فار نیشنل ڈویلپمنٹ (UPND) کے رہنما کولنز ماوما نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جناب صدر، براہ کرم اس ملک کے لیے ہمیشہ کی طرح ایک اچھے رہنما بنے رہیں۔
زیمبیا کے عوام نے ایک بار پھر آپ کی قیادت پر اپنے اعتماد اور یقین کا اظہار کیا ہے۔













