واشنگٹن پوسٹ کی بدھ کے روز شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس حکام اسرائیل کی جانب سے فراہم کردہ اس رپورٹ کی ساکھ پر شک کر رہے ہیں جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران، صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اسی انٹیلی جنس رپورٹ کی وجہ سے گزشتہ ماہ امریکی صدر کی ترکیہ سے روانگی کے وقت غیر معمولی سیکیورٹی آپریشن شروع کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں انٹیلی جنس کے مواد سے واقف سابق امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سی آئی اے (CIA) کے تجزیہ کار اسرائیل کی فراہم کردہ معلومات کو تسلی بخش نہیں سمجھتے اور انہوں نے اپنے ان شکوک و شبہات سے ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کو آگاہ کر دیا تھا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، ایک امریکی اہلکار نے اس رپورٹ کو "امریکی ذرائع سے نہیں، بلکہ اسرائیلی ذرائع سے حاصل ہونے والی اور کم ساکھ والی" معلومات قرار دیا ہے۔
انٹیلی جنس کے حوالے سے یہ خدشات 8 جولائی کو نیٹو (NATO) سربراہی اجلاس کے بعد ٹرمپ کی انقرہ سے روانگی کے وقت کیے گئے وسیع سیکیورٹی اقدامات کو ایک نیا رخ دیتے ہیں۔
اخبار نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ قطر کی جانب سے امریکہ کو تحفے میں دیے گئے نئے بوئنگ 747-8 طیارے کی پرواز کے لیے مناسب سیکیورٹی اقدامات کی موجودگی کے بارے میں خدشات پیدا ہونے کے بعد، صدر کو خفیہ طور پر سابقہ صدارتی طیارے سے ایک تیسرے طیارے میں منتقل کیا گیا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کو ایئرپورٹ پر صدارتی طیارے سے کیٹرنگ کے ایک ٹرک کے ذریعے C-32A فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد ٹرمپ اور ان کے معاونین پر مشتمل ایک چھوٹا گروپ برطانیہ کے مائلڈن ہال ایئر بیس کے لیے روانہ ہوا۔ اس پرواز کے دوران F-16 جنگی طیاروں نے ان کی حفاظت کی۔
وائٹ ہاؤس نے انٹیلی جنس کی اس تشخیص سے متعلق سوالات کا براہ راست جواب نہیں دیا۔ تاہم، ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ امریکی صدر کو ایران سمیت متعدد خطرات کا سامنا ہے اور ان کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔
امریکی اہلکار نے اپنے بیان میں کہا، "جیسا کہ صدر نے بھی اشارہ کیا ہے، انہیں اپنی زندگی کے خلاف بے شمار خطرات کا سامنا رہا ہے جن میں ایران کی طرف سے آنے والے خطرات بھی شامل ہیں، اور ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا گیا ہے۔ یو ایس سیکرٹ سروس کا بنیادی فرض صدر کی حفاظت کرنا ہے اور وہ اس میں کامیاب رہی ہے۔"
سی آئی اے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے نے اخبار کی رپورٹ کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
انٹیلی جنس پر اٹھنے والے سوالات کے باوجود، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سیکرٹ سروس نے بالاخر یہ فیصلہ کیا کہ ممکنہ خطرے کے پیش نظر غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔
ایک اہلکار نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا، "سیکرٹ سروس اس صدر کے معاملے میں تین بار بال بال بچی ہے، اس لیے وہ کوئی خطرہ مول نہیں لے رہے ہیں۔"
دوسری طرف ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ دوسرا طیارہ استعمال کرنے کا فیصلہ سیکرٹ سروس نے کیا تھا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا، "یہ معاملہ واقعی مکمل طور پر سیکرٹ سروس پر منحصر ہے۔ میں صرف وہی کرتا ہوں جو وہ چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں ایک مختلف فلائٹ اور مختلف طیارے پر سوار ہوں، جو سیکیورٹی کے لحاظ سے یکساں ہو... وہ جو کہتے ہیں، میں وہی کرتا ہوں۔"
ان شکوک و شبہات نے یہ سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں کہ اسرائیل نے یہ انٹیلی جنس واشنگٹن کے ساتھ کیوں شیئر کی؟ کیا اس معلومات کا مقصد محض ایک وارننگ تھا یا اس کا ہدف امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونا تھا؟
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، امریکہ کے کچھ موجودہ اور سابق انٹیلی جنس حکام کا خیال ہے کہ اسرائیل کی اس رپورٹ کا مقصد جزوی طور پر ٹرمپ کے فیصلے سازی کے عمل اور خطے کے حوالے سے واشنگٹن کے نقطہ نظر کو متاثر کرنا ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، معاملے سے قریبی طور پر واقف ایک سابق اہلکار نے کہا، "یہ صورتحال انٹیلی جنس رپورٹنگ کے اس وسیع ماڈل سے میل کھاتی ہے جس کے بارے میں بعض حکام کا خیال ہے کہ اسے صدر کے فیصلے سازی کے عمل کو صرف مطلع کرنے کے لیے نہیں بلکہ اسے ایک خاص رخ دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔"
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو اسرائیل کی انٹیلی جنس رپورٹ اور سیکرٹ سروس کے منصوبہ بند آپریشن، دونوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی۔ واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے حوالہ دیے گئے سابق امریکی اہلکار کے مطابق، اس کے باوجود روبیو پرانے ماڈل کے صدارتی طیارے میں ہی سوار ہوئے۔
















