رائے
تجزیات
6 منٹ پڑھنے
مکہ معاہدہ ایک نئے دور کی علامت
مکہ معاہدہ سیاسی، عسکری، اقتصادی اور اسٹریٹجک اعتبار سے ایک نئے دور کی علامت ہے
مکہ معاہدہ ایک نئے دور کی علامت
Türkiye, Suudi Arabistan ve Pakistan üçlü savunma anlaşması

ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا مکہ معاہدہ سیاسی، عسکری، اقتصادی اور اسٹریٹجک اعتبار سے ایک نئے دور کی علامت ہے…

انقرہ دفاعی صنعت کے میدان میں ایک مثالی مقام رکھتا ہے۔ مکہ کے پاس بے پناہ مالی طاقت ہے جبکہ اسلام آباد کے پاس جوہری طاقت موجود ہے۔ ان تمام صلاحیتوں کا امتزاج تینوں ممالک کو ایک وسیع جغرافیائی خطے میں طاقت کے توازن کے تعین  کے قابل بنائے گا۔ آج ہم آپ کے لیے اس موضوع پر سرتاچ آقسان کا TRT Haber کے لیے تیار کردہ تجزیاتی کالم پیش کر رہے ہیں۔

حالیہ برسوں میں شاید سب سے اہم معاہدوں میں سے ایک مکہ میں طے پایا ہے۔۔۔ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اتحاد کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اگرچہ اس کا نام ’’دفاع‘‘ ہونے کی وجہ سے ابتدائی طور پر ذہن میں عسکری معاملات آتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ تعاون ایک وسیع جغرافیائی خطے میں انتہائی اہم نتائج پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یقیناً، یہاں ایک بنیادی نکتے کو مدّنظر رکھنا ضروری ہے کہ تینوں ممالک کی اپنی منفرد خصوصیات ہیں۔

ترکیہ ان تینوں ممالک میں دفاعی صنعت، جدید جنگی نظریات اور ’’کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے‘‘ کی صلاحیت کے حوالے سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

سعودی عرب اس اتحاد کا مالی اعتبار سے سب سے طاقتور رکن ہے۔ اس کے وسیع مالی وسائل مکہ انتظامیہ سے متعلق معاملات کو ’’تیز رفتاری‘‘ سے آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پاکستان مسلم دنیا کا واحد جوہری طاقت رکھنے والا ملک ہے۔ اس کے علاوہ 25 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ یہ اتحاد کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بھی ہے۔

مکہ معاہدے سے ہمیں کیا سمجھنا چاہیے؟

اس سوال کا جواب دینے سے پہلے موجودہ صورتحال کو اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے۔ روس۔یوکرین جنگ کے باعث یورپ ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جسے  دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک قرار دیا جا سکتا ہے۔ یورپی یونین کا مستقبل غیر یقینی ہے۔

دوسری طرف اسرائیل کی  مشرقِ وسطیٰ کو جہنم میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف جارحانہ سوچ اور ایران کی جانب سے کشیدگی کی آگ کو پورے خلیج تک پھیلانے جیسے حالیہ واقعات سب کے سامنے ہیں۔

ادھر ایشیا پیسیفک خطے میں بھی صورتحال مسلسل کشیدہ ہو رہی ہے۔ چین کی تائیوان کے ساتھ کشمکش اور امریکہ کی جانب سے چین کے خلاف جلد از جلد ٹھوس اقدامات کرنے کی خواہش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ علاقائی تنازعات، نقل مکانی، روایتی جنگیں، سائبر حملے اور ہائبرڈ خطرات شاید پہلے سے کہیں زیادہ شدّت اختیار کر چکے ہیں۔

آخرکار ہر ملک کسی نہ کسی طرح اس نئے دور کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے، اپنی پوزیشن مضبوط بنانے اور اپنے فریق کا تعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ اس تناظر میں خاصی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔

تینوں ممالک کے دستخط ایک وسیع جغرافیائی خطے کو متاثر کریں گے

نجم الدین اربکان یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر گوک ہان چِنکارا کے مطابق تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اتحاد کے معاہدے کا ایک اہم ترین نتیجہ ’’مشترکہ تعاون‘‘ کی صورت میں سامنے آئے گا۔

گوک ہان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اس معاملے میں اپنی مالی طاقت کے باعث نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے اور خصوصاً عسکری منصوبوں میں نمایاں تیزی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے دفاعی صنعت میں انقرہ کی قائدانہ حیثیت انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق بعض اہم منصوبوں میں ترقی کا عمل پہلے سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔

یقیناً مکہ انتظامیہ کی واحد خصوصیت اس کی مالی طاقت نہیں ہے۔ گوک ہان نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ سعودی عرب خطے میں امریکہ کا سب سے اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے گوک ہان  سب سے پہلے اس کی جوہری طاقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد حکومت بالخصوص فضائی قوت کے حوالے سے بھی ایک مضبوط مقام رکھتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شام، عراق اور مشرقی بحیرۂ روم جیسے قریبی علاقوں میں ترکیہ کے اثر و رسوخ، خلیجی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر سعودی عرب کی طاقت اور اپنے گرد و نواح میں پاکستان کے غالب کردار کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، یہی وجہ ہے کہ ان تینوں ممالک  میں طے پانے والا یہ معاہدہ ایک انتہائی وسیع خطے میں اثرات پیدا کرے گا۔

اس موقع پر وہ ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’آنے والے عرصے میں مصر اور قطر سمیت مختلف ممالک بھی  اس اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور یمن کا معاملہ اس قدر شدید اور پیچیدہ دَور سے گزر رہا ہے۔ اور اگر یہ سہ ملکی اتحاد یمن کے معاملے پر کوئی ٹھوس قدم اٹھاتا ہے تو میرے لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی۔‘‘

امریکہ اور اسرائیل مکہ معاہدے کو کس نظر سے دیکھیں گے؟

مکہ معاہدے کے حوالے سے ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس نئے عمل پر کس طرح ردِعمل ظاہر کریں گے۔

گوک ہان چِنکارا پہلے اس معاملے میں امریکی پہلو کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن حکومت کے ترکیہ کے ساتھ انتہائی گرمجوش اور مؤثر تعلقات ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کے سعودی عرب کے ساتھ بھی انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ اسرائیلی جارحیت کے باعث امریکہ اب تک اپنی توجہ دوسرے خطوں کی جانب منتقل نہیں کر سکا۔

ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے کو امریکہ مثبت نظر سے دیکھے گا بلکہ ممکنہ طور پر اس کی حمایت بھی کرے گا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ نیا سہ ملکی اتحاد کسی نہ کسی شکل میں ایران پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے اور یہ بھی امریکہ کے مفاد میں ہوگا۔

نسل کُش اسرائیل مکہ معاہدے سے شاید سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ایک ہے۔ تل ابیب حکومت یقیناً اس بات سے خوش نہیں ہوگی کہ ضرورت پڑنے پر ایک بلاک کی حیثیت سے مشترکہ کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھنے والے تین ممالک متحد ہو جائیں۔

گوک ہان چِنکارا اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ اسرائیل اس صورتحال کو اپنی داخلی سیاست میں ’’ہمارے خلاف اتحاد قائم کیا جا رہا ہے‘‘ کے بیانیے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اپوزیشن بھی اس تاثر کو روکنے کے لیے نئے بیانیے تشکیل دے گی، کیونکہ اب ان کے نزدیک بھی کسی نہ کسی طرح دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدے اور مفاہمت کی راہ اختیار کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

آخر میں گوک ہان چِنکارا  نےاس بات پر زور دیا ہے کہ اگرچہ اس اتحاد کو زیادہ تر عسکری پیش رفت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے لیکن اس میں انتہائی مؤثر سفارتی و مذاکراتی طاقت بھی موجود ہوگی۔ ان کے مطابق، اقتصادی ترقی، علاقائی امن و استحکام اور جامع تعاون جیسے شعبوں میں بھی یہ اتحاد انتہائی اہم اسٹریٹجک نتائج حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دریافت کیجیے
آبنائے ہرمز کی بندش سے توانائی کے بحران کے خطرات اور پیٹرول کے نرخ
شمالی کوریا کی امریکہ-جنوبی کوریا فوجی مشقوں کے درمیان متعدد بیلسٹک میزائلوں کی آزمائش
امریکہ بین الاقوامی قواعد پر مبنی نظام کو چیلنج کر رہا ہے، یورپی یونین کونسل
امریکی میزائل کے ایرانی اسکول کے قریب گرنے کی فوٹیج سے مزید حقائق سامنے آ گئے
ایران نے 300 ملین ڈالر کی امریکی میزائل دفاعی ریڈار کو اردون میں تباہ کر دیا ہے
افغانستان اور پاکستان ان بحرانی حالات تک کیسے پہنچے؟
مارکو روبیو کا غزہ میں انتظامیہ کے قیام اور اس کے بعد بین الاقوامی فورس کی تعیناتی منصوبہ
حلال منڈیوں کے شعبے کی تجارتی سطح 7 ٹریلین ڈالر تک جا پہنچی ہے: صدرِ ترکیہ
ترکیہ اگلے سال COP31 کی میزبانی کرتے ہوئے عالمی موسمیات کے موضوع پر اپنی پوزیشن مضبوط کرے گا
اسرائیل، امریکی حمایت یافتہ اقوام متحدہ کے بل سے ریاستِ فلسطین کی حیثیت کو ہٹانے کے درپے
برطانیہ میں مساجد پر حملوں میں اضافہ مسلم نفرت میں تیزی آنے کا مظہر ہے، نگران ادارہ
غزہ کا پختہ ایمان: ایک ترک خاتون کے 24 سال
امریکہ نے نسل کشی سے متاثرہ غزہ میں امن فورس کے لیے ایک مسودہ قرار داد پیش کر دی
شاہ اردن: غزہ کی سلامتی افواج کا مینڈیٹ 'امن حفاظت' ہوگا، نہ کہ 'امن نافذ کرنے' کا
اقوام متحدہ کی اعلی عدالت کا فیصلہ: اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ فلسطینیوں تک انسانی امداد پہنچے
حماس نے غزہ میں امدادی سامان نہیں چرایا
اسرائیل نے مغربی کنارے کو ایک'بڑی جیل' بنا ڈالا
متعدد عالمی کمپنیاں غزہ میں 'نسل کشی' اور آبادی کی توسیع میں اسرائیل کی مدد کرتی ہیں: رپورٹ
پاکستان میں بار بار آنے والے سیلابوں کی وجوہات پر ایک تجزیہ
غزہ میں نظامِ آبپاشی کی تباہی کے باعث مصنوعی خشک سالی کا سامنا ہے، یونیسیف