امریکہ وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ ایران کا خلیج بصرہ محکمہ باسفورس بھتہ خوری کر رہا ہے۔
امریکہ وزارت خزانہ نے ایران کے آبنائے ہرمز محکمے پر پابندیاں عائد کر دیں اور اس پر الزام لگایا ہے کہ وہ تجارتی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ٹول کی ادائیگی پر مجبور کر کے ایران پاسدارانِ انقلاب فورس کے لیے ایک قسم کے "بھتہ نیٹ ورک" کا کام کر رہا ہے۔
وزراتِ خزانہ نے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یہ ادارہ جہازوں کو آبنائے سے محفوظ خروج کے لئے "غیر قانونی ٹرانزٹ فیس" ادا کرنے اور "حساس معلومات" فراہم کرنے پر مجبور کرتا ہےاور جمع ہونے والی رقم براہِ راست پاسدارانِ انقلاب تک پہنچائی جاتی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ "ایرانی فوج کی جانب سے عالمی بحری تجارت سے بھتہ وصول کرنے کی تازہ کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری اقتصادی مہم نے حکومت کو مالی دباؤ کا شکار کر دیا ہے"۔
محکمہ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ اس ادارے کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد یا تنظیمیں امریکی پابندیوں کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں، چاہے ادائیگیاں نقدی، ڈیجیٹل اثاثوں، تبادلے، غیر رسمی لین دین یا دیگر طریقوں سے ہی کیوں نہ کی جائیں۔
فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر حملے شروع ہونے کے بعد سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔ حملوں کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز بند کر دی۔
8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے جنگ بندی نافذ ہوئی، جسے بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑھا دیا تھا۔
آبنائے ہرمز اس تنازعے کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مرکز بن گئی ہے۔ یہ تنازعہ علاقائی توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنا ہے۔
تیل کی عالمی رسد کا تقریباً 20 فیصد روزانہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال نے جہاز رانی اور انشورنس کے اخراجات بھی بڑھا دیے ہیں۔








