رائے
تجزیات
6 منٹ پڑھنے
صومالیہ کے قحط زدہ بچے ایران جنگ سے بُری طرح متاثر ہوئے ہیں
پانچ سال سے کم عمر  کے تقریباً نصف ملین بچے "شدید غذائی قلت" یا "ویسٹنگ" کا شکار ہیں، جو بھوک کی سب سے جان لیوا صورت ہے، اور ترسیلات میں تاخیری،  امدادی کمی کے اثرات  کو مزید ابتر کر رہی ہے۔
صومالیہ کے قحط زدہ بچے ایران  جنگ سے بُری طرح متاثر ہوئے ہیں
صومالیہ کے ڈینائل ہسپتال میں ایک بے گھر صومالی خاتون اپنے غذائی قلت کے شکار بچے کو کھانا کھلا رہی ہے، 20 اپریل 2026۔ / Reuters

صومالیہ میں قحط کی خطرناک کیفیت اور غیرملکی امداد میں سخت کمی  کے باعث دوہری آفت سے دو چار اس ملک کے بچوں کے لیے ، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ محض پٹرول کی قیمتوں میں اضافے  سے ہٹ کر  موت  و زندگی کی کشمکش  بن چکی ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ،بین الاقوامی ا مداد کی ترسیل میں رکاوٹوں کی بنا پر زندگی بچانے والی تھراپیوٹک غذا کی قلت نے  ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ پولی کلینک شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کو خالی ہاتھ واپس بھیج رہے ہیں ۔

پانچ سال سے کم عمر  کے تقریباً نصف ملین بچے "شدید غذائی قلت" یا "ویسٹنگ" کا شکار ہیں، جو بھوک کی سب سے جان لیوا صورت ہے، اور ترسیلات میں تاخیری،  امدادی کمی کے اثرات  کو مزید ابتر کر رہی ہے۔ 

بایدوہ اور موغادیشو میں صحت کے کارکن کہتے ہیں کہ بچوں کو بچانے کے لیے ضروری،  مخصوص دودھ اور مونگ پھلی پیسٹ کے اسٹاکس موجود نہیں۔

نرس حسن یحیٰ خیری نے کہا، "چونکہ ضروریات بہت زیادہ ہیں اور ہمارے پاس رسد کم ہے، ہمیں بچوں کو دی جانے والی مقدار میں بار بار کمی کرنی پڑی ہے۔"

بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی کے  مطابق اس کے کلینک میں باقی رہنے والے 225 کارٹن مونگ پھلی کی پیسٹ، جو ایک ہزار 200 سے زائد بچوں کا علاج کرتا ہے، ممکنہ طور پر دو ہفتوں میں ختم ہو جائیں گے۔

خیری نے مزید کہا، "اگر علاج وقفے وقفے سے ہوگا تو بچے جسمانی اور ذہنی طور پر بہت کمزور ہو جائیں گے۔ اور یہ ممکن نہیں ہوگا کہ اسے پلٹا جا سکے۔"

IRC تین امدادی گروپوں میں سے ایک ہے جن کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر جنگ سے جڑی نقل و حمل میں تاخیر اور بڑھتی ہوئی لاگت پہلے ہی پیچیدہ صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہیں۔

جنوب مغربی شہر بایدوہ کے اس کلینک میں، جسے IRC کے مقامی شراکت دار READO چلا رہا ہے، نو بچوں کی ماں ممینو عدن آمین اپنی گیارہ ماہہ بیٹی رُوِیدو کے لیے مونگ پھلی کی پیسٹ لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔

رُوِیدو روزانہ تین ساشے کے شیڈول پر ہے مگر آمین کو دو بار باہر بھیج دیا گیا ہے کیونکہ ہر بار کلینک میں وہ ختم ہو گئی تھیں۔

آمین نے کہا کہ 2017 کی خشک سالی کے وقت ان کی بیٹی انیسا بھوک کے باعث تقریباً مر گئی تھیں۔ "صرف ہڈی اور جلد رہ گئی تھی،" بچے کو صرف مونگ پھلی کی پیسٹ کی وجہ سے بچایا جا سکا، آمین نے کہا۔

نو سال بعد ایک نئی خشک سالی نے 65 لاکھ افراد یعنی ہر تین میں سے ایک صومالیٰ کو شدید بھوک میں دھکیل دیا ہے اور امدادی گروپ خلا پُر کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

IRC کے صومالیہ کوآرڈینیٹر شوکری عبدالقدیر نے کہا کہ مونگ پھلی کی پیسٹ کا ایک آرڈر جو ایک ہزار سے زائد بچوں کو خوراک فراہم کرتا، دو ماہ قبل ہندوستانی بندرگاہ مندرہ میں پھنس گیا تھا، جو اب خلیج میں کشتیوں کے نہ لنگر انداز ہونے کی وجہ سے موڑنے والی کارگو سے رش زدہ ہو گئی ہے۔

جب بتایا گیا کہ ہندوستان میں بننے والی وہ مونگ پھلی کی پیسٹ کم از کم مزید 30 دن میں پہنچے گی تو IRC نے وہ آرڈر منسوخ کر دیا۔

اس نے نیروبی سے ہنگامی بنیادوں پر 400 کارٹن منگنے کا آرڈر دیا اور انتظار کے دوران موغادیشو سے بایدوہ کی جانب سامان منتقل کر رہا ہے۔

تاہم کرایہ اور پیداواری لاگت میں اضافے نے ایک کارٹن کی قیمت $55 سے بڑھا کر $200 کر دی ہے، کیئر انٹرنیشنل کے مطابق جن کے تازہ ترین آرڈر اب 300 بچوں کے بجائے صرف 83 بچوں کے لیے کافی سامان خریدتے ہیں۔

زندگی بچانے والی خوراکی امداد کو پہنچنے میں زیادہ وقت لگ رہا ہے اور اس کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے

2024 میں یورپ سے صومالیہ تک تھراپیوٹک دودھ اور ریڈی ٹو یوز تھراپیوٹک فوڈ (RUTF) کی ترسیل عام طور پر 30–35 دن لیتی تھی، جو 2025 میں بحری جہازوں کے افریقہ کے گرد موڑ لیے جانے کی وجہ سے سیکیورٹی خطرات کے باعث 40–45 دن تک پہنچ گئی۔

محمد عمر، جو موغادیشو میں ایکشن اگینسٹ ہنگر (ACF) میں ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن کے سربراہ ہیں، نے کہا کہ جب سے امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا اور ایران نے خلیج میں داخلے بند کر دیے، جہازوں کی کمی نے یہ مدت 55تا65 دن تک بڑھا دی ہے۔

دریں اثنا صومالیہ میں IPC گلوبل ہنگر مانیٹر کے مطابق دو ملین سے زائد لوگ اب "ایمرجنسی" مرحلے میں ہیں، جو قحط سے ایک درجہ قبل ہے۔

جنوری تا مارچ میں ACF کی حمایت یافتہ صحت مراکز میں شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کے داخلے پچھلے سال کے مقابلے میں 35 فیصد بڑھ گئے تھے۔

دینیل جنرل ہسپتال کے عملے نے، جو ویسٹنگ کے 360 بچوں کا علاج کر رہا ہے، 20 اپریل کو کہا کہ ان کے پاس ہفتے کے لیے بمشکل کافی سامان ہے۔

ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروائزر حفصہ علی حسن نے کہا، "کچھ بچوں کی غذائی حالت پہلے ہی بدتر ہو چکی ہے۔"

صومالیہ ان 17 غریب ممالک میں شامل نہیں تھا جنہیں اس سال اقوامِ متحدہ کے ہیومنٹیریئن افیئرز کے کوآرڈینیشن آفس کو دیے جانے والے فنڈز میں حصہ ملنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا، اور امریکہ غیر ملکی امداد دینے والوں میں سب سے بڑی کٹوتی کرنے والا ملک ہے۔

OCHA کا کہنا ہے کہ 200 سے زائد صحت مراکز بند کیے جا چکے ہیں اور موبائل ٹیمیں تحلیل کر دی گئی ہیں۔

اس نے دسمبر میں کہا تھا کہ اس کی وجہ سے 60,500 سے زائد شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کا علاج نہیں ہو سکا، اور اگر فنڈنگ کے خلاء برقرار رہے تو یہ تعداد 150,000 تک بڑھ سکتی ہے۔

پھر جب ایران جنگ پھوٹ پڑی تو گھریلو ایندھن کی قیمتیں 150 فیصد تک بڑھ گئیں۔

IRC کے عبدالقدیر نے کہا، "صومالیہ ایران جنگ سے واقعی سخت متاثر ہوا ہے کیونکہ لوگ پچھلی خشک سالی کے اثرات سے ابھی تک نمٹ ہی رہے ہیں۔ ان جھٹکوں کو لوگوں کے لیے برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔"

OCHA نے مکمل قحط کو ٹالنے کے لیے عالمی ڈونرز سے 852 ملین ڈالر کی اپیل کی ہے۔

یہ رقم گزشتہ سال کی درخواست 1.42 ارب ڈالر سے بہت کم ہے — اور اب تک اس میں سے بمشکل 14 فیصد ہی موصول ہوا ہے۔