اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے سلامتی کونسل میں تمام خِطّوں کی منصفانہ نمائندگی کو یقینی بنانے اور پانچ مستقل ارکان کے پاس موجود مستقل ویٹو پاور کو ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں سانچیز نے کہا ہے کہ "بین الاقوامی انتظامی ساخت کو ایسی شکل میں ڈھالنا ضروری ہے کہ جس کے ساتھ وہ موجودہ حقائق کی عکاسی کر سکے۔ہمیں سلامتی کونسل میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کے تمام خطوں کو منصفانہ نمائندگی حاصل ہو اور ہم مستقل اراکین کے ویٹو پاور کو ختم کر سکیں۔" سانچیز نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے تحت"کوئی بھی ملک چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اپنےمقدمےمیں جج نہیں ہونا چاہیے۔"
انہوں نے متنبہ کیا ہےکہ "امن، پائیداری اور مواقع کی مساوات جیسے بنیادی عناصر کو ،دنیا کو "تاریک ماضی" کی طرف گھسیٹنے کے خواہش مند سیاسی کرداروں کے منظم حملوں کا سامنا ہے۔
کثیرالجہتی پر حملہ
اسپین کے خارجہ پالیسی اقدامات کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے سانچیز نے روس کے خلاف پابندیوں اور میڈرڈ کی طرف سے اسرائیلی حکومت پر لگائی گئی ہتھیاروں کی پابندی کا ذکر کیا اور اس بات کا اعادہ کیا ہےکہ "میں کسی شک و شبہے کے بغیر اس نسل کُشی کی مذّمت کرتا ہوں جو نیتن یاہو اب بھی غزہ میں جاری رکھے ہوئے ہے " ۔
سانچیز نے اس صورتحال کو "کثیر الجہتی اداروں کو کمزور کرنے کے زیرِ مقصد اور منصوبہ بند اور منّظم تباہی کا اقدام قرار دیا اور اس کی سخت الفاظ میں مذّمت کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ " وہ ان اصولوں کو توڑنے سے شروع کرتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ کوئی ان کا احتساب کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔ وہ اس طرح کی کثیر جہتی تنظیموں میں اپنا حصہ کم کر رہے ہیں۔ "وہ ان تنظیموں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور پھر انہیں ناکارہ اور بیکار ڈھانچے کے طور پر ایک طرف دھکیل دیتے ہیں۔"
ہسپانوی وزیر اعظم نے رکن ممالک سے ان چیلنجوں کے باوجود اقوام متحدہ پر اعتماد بحال کرنے پر بھی زور دیا۔ اقوام متحدہ کے اگلے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے معاملے پر بات کرتے ہوئے، سانچیز نے نشاندہی کی کہ آج تک تمام نو سیکرٹری جنرل مرد رہے ہیں اور اس بات پر اصرار کیا کہ نئی سیکرٹری جنرل لاطینی امریکی خاتون ہونی چاہئیں۔ یہ "ایک تاریخی قرض جو ہمیں ادا کرنا ہوگا۔
" شمالی افریقہ میں ہسپانوی علاقے سیوٹا میں ہجرت کے معاملے کو چھوتے ہوئے، جہاں جولائی کے آخر میں تقریباً 72,000 افراد نے بے قاعدگی سے عبور کیا، سانچیز نے عہد کیا کہ اسپین "تارکین وطن کو دشمنوں میں بدلنے" کے بجائے انسانی حقوق کا احترام کرے گا۔
















