ایرانی مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر نے متنبہ کیا ہے کہ ملک کی جوہری یا دیگر حساس تنصیبات پر امریکہ کا کوئی بھی حملہ علاقائی حملوں کو جنم دے گا، جس میں امریکی مفادات کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کے اتحادیوں اور حامیوں کے مفادات کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر نے بریفنگ میں بتایا کہ اس طرح کے اقدام کو پورے خطے میں جنگ کی توسیع کے طور پر دیکھا جائے گا اور یہ مسلح افواج کی جانب سے "شدید" ردعمل کا باعث بنے گا۔
یہ انتباہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے نتانز جوہری کمپلیکس کے قریب زیرِ زمین" کازما داغ " تنصیبات پر حملے کی دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ اس خطے پر بہت بھاری ضرب لگائے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایران نے خطے میں جوہری سینٹری فیوجز منتقل کیے ہوں گے، تاہم واشنگٹن نے ابھی تک اس معلومات کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے 'نصر 2 آپریشن' کی 24ویں لہر کے دوران کویت میں علی السالم ایئر بیس کے قریب ایک ابتدائی انتباہی راڈار، ٹیکٹیکل ریڈار کمپلیکس اور کویت کے جزیرہ بوبیان پر ایک اور ریڈار سسٹم کو تباہ کر دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے بتایا کہ راڈار سسٹمز کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے جبکہ امریکہ کے خلاف فوجی آپریشنز جاری رہیں گے۔
امریکہ نے گزشتہ ہفتے سے ایران پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ تہران نے ان حملوں کا جواب ان تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنا کر دیا ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ امریکی فوج انہیں خطے کے مختلف ممالک میں استعمال کر رہی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان یہ باہمی حملے اس مفاہمت نامے کے باوجود ہو رہے ہیں جو فروری میں شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنے اور مستقل امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے جون میں پاکستان کی ثالثی میں طے پایا تھا۔
















