یوگنڈا میں ایک بس، جس میں اسکول کے بچے کسی سفر سے واپس آ رہے تھے، سڑک سے باہر پھسل گئی جس کے نتیجے میں کم از کم 20 بچوں اور ایک بالغ کی ہلاکت ہو گئی۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق، دارالحکومت کمپالا کے کنگ ڈیوڈ جونیئر اسکول کی بس جمعرات رات گئےضلع کاپچوروا کے سیپی فالز کے اسکول دورے سے واپس آتے ہوئے سڑک سے باہر جا نکلی۔
پولیس نے جمعہ کو ایک بیان میں ایکس پر کہا: 'اطلاعات کے مطابق ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا، گاڑی سڑک کنارے پر پڑے ایک بڑے پتھر سے ٹکراتے ہوئے الٹ گئی۔'
اطلاع کے مطابق 'اس حادثے میں ایک بالغ مرد اور 20 طلبہ ہلاک ہو گئے، جبکہ تین بالغ مرد اور متعدد نابالغ زخمی ہوئے۔' کنگ ڈیوڈ جونیئر اسکول کے بانی بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔
پولیس نے ایک بری طرح مسخ شدہ اور الٹی ہوئی بس کی تصویر شیئر کی اور کہا کہ تفتیش جاری ہے جبکہ متعدد بچوں اور بالغوں کو علاج معالجہ فراہم کیا جا رہا ہے۔
ریاستی حکومت کے وزیر بالام باروگاہارا اٹینی نے کہا کہ وہ وزیر مملکت برائے محنت، روزگار و صنعتی تعلقات سیمون مولونگو کے ہمراہ زخمی بچوں سے ملنے گئے۔
یوگنڈا میں سڑکوں کی حفاظت
یوگنڈا میں جان لیوا بس حادثات نسبتاً عام ہیں۔
اکتوبر میں ایک ہائی وے پر دو بسوں کے تصادم میں کم از کم 46 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
یوگنڈا پولیس کی سالانہ جرائم رپورٹ، جو مارچ میں جاری کی گئی، کے مطابق یوگنڈا میں 2025 میں 26,044 سڑکوں کے حادثات ریکارڈ ہوئے جو کہ 2024 میں درج 25,107 کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔
ان میں سے 4,602 حادثات جان لیوا تھے جن میں 5,300 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 40 فیصد سے زیادہ حادثات لاپرواہ ڈرائیونگ کی وجہ سے ہوتے ہیں، جن میں تیز رفتاری، خطرناک اوور ٹیکنگ اور بہت قریب سے گاڑی چلانا شامل ہیں۔
متواتر جان لیوا حادثات نے نظر ثانی شدہ الیکٹرانک پینلٹی سسٹم (EPS) کے اطلاق کے تقاضے میں تیز ی لائی ہے۔ یہ نظام کیمروں اور خودکار نمبر پلیٹ شناختی ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے تاکہ تیز رفتاری اور دیگر ٹریفک خلاف ورزیوں کا حقیقی وقت میں پتہ چلایا جا سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نظام یوگنڈا میں تیزی سے بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی آبادی کی نگرانی کرنے والے تقریباً 2,000 ٹریفک اہلکاروں کی معاونت کرے گا، اور حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل خودکار نفاذ روڈ حادثات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔



















