ترکیہ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے صدر رجب طیب ایردوان کے خلاف کی گئی باتوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ "تاریخی حقائق اور سیاسی سنجیدگی" سے عاری ہیں۔
جمعے کو X پر جاری کردہ ایک بیان میں ترکیہ کے محکمہ اطلاعات نے کہا کہ ان بیانات میں اس انتظامیہ کی مایوسی جھلکتی ہے جو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے جواب دہی سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ نے ان تبصروں کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے اپنائی جانے والی "سستی سیاست" کا حصہ قرار دیا، جس کا جزوی مقصد انتخابی فائدہ حاصل کرنا بھی ہے۔
محکمے کے مطابق ایسے حربے نہ تو اسرائیلی معاشرت میں، نہ وسیع خطے میں، نہ بین الاقوامی برادری میں اور نہ ہی ترکیہ کے لیے کوئی وقعت رکھتے ہیں۔
ڈائریکٹوریٹ نے مزید کہا کہ یہ تبصرے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ترکیہ کی پوزیشن اور ناانصافی کے سامنے ایردوان کی خاموش نہ رہنے کی پالیسی نے ایک ایسی انتظامیہ کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے جسے بین الاقوامی انصاف کے اداروں کے سامنے نسل کشی کے الزامات کا سامنا ہے۔
سستی سیاست
اس نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی انتخابی مہم بتدریج "غیر ذمہ دارانہ، سیکیورٹی پر مبنی عوامی پاپولزم" اور دھمکیوں کی بڑھتی ہوئی سیاست سے تشکیل پا رہی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ نے کہا کہ "نیتن یاہو انتظامیہ کی ترکیہ کو نیا خطرہ ظاہر کرنے کی کوشش بھی اسی سستی سیاست کا حصہ ہے،"
اس نے انتباہ دیاکہ داخلی سیاسی مقابلے کے لیے کشیدگی پیدا کرنے سے نہ صرف اسرائیلی معاشرے بلکہ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو بھی "سنگین خطرات" لاحق ہو سکتے ہیں۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ "ترکیہ ماضی کی طرح ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑا رہے گا، اور ہمارے خطے میں امن، انصاف اور استحکام کا پختہ دفاع کرے گا، چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہو۔"
اس سے پہلے جمعے کو ترکیہ نے کہا تھا کہ اس نے گلوبل سمود فلوٹیلا پر سرگرم کارکنوں کے خلاف اسرائیلی حملے کے سلسلے میں جاری مقدمے کے حصہ کے طور پر نیتن یاہو اور ایک اور اسرائیلی ملزم کے لیے انٹرپول کے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔


















