قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ "خطے میں نئی سکیورٹی صورتحال کے قیام اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے ہمیں پڑوسی ممالک کی جانب سے بہت سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔"
ایرانی پالریمانی اسپیکر نے اپنے پیغام میں مزید لکھا:
"امریکہ نے اسرائیل کے مفاد میں جو ظلم کیا اور اپنے حلیفوں کے مفادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا، اس کے نتیجے میں اس نے اپنے تمام حلیفوں کی سکیورٹی اتنے بڑے خطرے میں ڈال دی کہ حلیفوں نے مختصر عرصے کے لیے اپنے تمام اثاثے خطرے میں محسوس کیے۔"
قالیباف نے یہ بھی کہا کہ "حقیقی معنوں میں امن اور سلامتی ایک علاقائی اور خودمختار نظام کے ذریعے ہی حاصل کی جائے گی۔"
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران کے خلاف "کسی بھی ملک پر اب تک نافذ کی گئی سب سے سخت اقتصادی کارروائی" شروع کر دی ہے، اور اسے "اقتصادی ڈی ڈے" اور "بے مثال سطح پر اقتصادی جنگ اور تنہائی" قرار دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ جو بھی ممالک ایران کو کسی بھی شکل میں مدد فراہم کریں گے، انہیں بھی سخت اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ٹرمپ کی نئی پابندیاں واشنگٹن انتظامیہ کی سابقہ پابندیوں کی طرح "ناکام" ثابت ہوں گی۔
















