انقرہ میں امریکی سفیر ٹام براک کا کہنا ہے کہ شمالی شام میں ایک فوجی ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملے کے پیچھے جو خفیہ اطلاعات تھیں وہ غلط تھیں۔
براک، جو شام اور عراق کے لیے امریکی خصوصی ایلچی بھی ہیں، نے ادلیب صوبے کے مشرق میں واقع متروک ابو الظهور فوجی ہوائی اڈے پر اسرائیل کے فضائی حملے پر تبصرہ کیا۔
براک نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ حملہ کیوں کیا گیا، مگر انہوں نے اس واقعے کے بارے میں جو معلومات انہیں موصول ہوئی تھیں وہ شیئر کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو خفیہ اطلاعات ملیں کہ ترکیہ ممکنہ طور پر فوجی اثاثے اس ہوائی اڈے کی طرف منتقل کر رہا ہے اور اس کی معلومات واشنگٹن کے ساتھ بھی شیئر کی گئی تھیں۔
براک نے بتایا کہ امریکا نے ان اطلاعات کی تفتیش کی اور اس کے اداروں نے اس دعویٰ کو درست نہیں پایا تھا۔
براک نے کہا کہ"ہم نے اپنے خفیہ اداروں سے مشاورت کی، اور جو جواب ہمیں ملا وہ یہ تھا کہ یہ دعویٰ درست نہیں تھا۔"
انہوں نے کہا کہ ممکن ہے اسرائیلی فوج، موساد اور دفترِ وزیراعظم کے درمیان اطلاعات کے تبادلے میں کوئی غلط فہمی رہی ہو۔
براک نے زور دیا کہ نہ امریکہ اور نہ ہی ترکیہ کو اس حملے کے بارے میں پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔
انہوں نے ترکیہ کی افواج کو 'مضبوط اور بہادر' قرار دیا اور کہا کہ وہ 'بہت اچھی طرح اسلحہ سے لیس ہیں اور اپنا کام اچھی طرح جانتی ہیں'۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے دفتر کا کہنا تھا کہ ترک فوجی اس اڈے پر موجودگی قائم کرنے اور جنوبی سمت میں فوجی تنصیبات تعینات کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اسرائیلی جنگی طیاروں نے ادلب کے مشرق میں واقع متروک ابو الظهور فوجی ہوائی اڈے پر حملہ کیا۔ فوری طور پر ہلاکتوں یا زخمیوں کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں تھیں۔
ایک شامی حکام نے کہا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے اڈے پر آٹھ حملے کیے، جن میں رن وے اور ہینگر کے اندر ایک غیر فعال عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔


















