جرمنی کی بندرگاہوں پر منگل کے روز 24 گھنٹے کی تنبیہی ہڑتال نے بندرگاہوں کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے۔
بندرگاہوں کے ملازمین نے اجرت کے معاملے میں دباؤ بڑھانے کے لیے کام چھوڑ دیا جس کے نتیجے میں ہیمبرگ اور دیگر پانچ بندرگاہوں کے کنٹینر ٹرمینلوں میں کام متاثر ہوا ہے۔
ورڈی یونین کے مطابق ہڑتال کا آغاز نصف شب کے بعد شروع ہونے والی نائٹ شفٹ نے کیا اور اس سے ہیمبرگ، بریمرہیون، بریمن، ولہلمس ہافن، ایمدن اور بریک کی بندرگاہیں متاثر ہوئی ہیں۔
ہیمبرگ میں ہڑتال نے HHLA اور Eurogate کے زیرِ انتظام مراکز سمیت بندرگاہ کے چار بڑے کنٹینر ٹرمینلوں کو متاثر کیاہے۔
ورڈی یونین کی مذاکرات کار سِلوی کریش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ"آجرین کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ ہم اپنے مطالبات کے معاملے میں سنجیدہ ہیں۔ کارکن بہتر پیشکش چاہتے ہیں اور اس کے حقدار بھی ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے کو چالُو رکھتے ہیں اور پورے شعبے کو مستحکم اور کامیاب رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔"
واضح رہے کہ ورڈی تقریباً 11 ہزار بندرگاہی ملازمین کی اجرت میں پورے 12 مہینوں تک مستقل 8.2 فیصد اضافے اور فی گھنٹہ کم از کم 2.50 یورو اضافی اجرت کا مطالبہ کر رہی ہے۔
دوسری جانب جرمن ایسوسی ایشن آف پورٹ آپریٹرز نے 19 مہینوں تک مستقل اجرت میں 5.1 فیصد اضافے کی پیشکش کی ہے، جبکہ جنوری 2027 سے تعطیل الاؤنس کے طور پر اضافی 300 یورو ادا کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔
















