امریکی سیاسی مبصر جنگ اویغور اور ڈیجیٹل نشریاتی شخصیت حسن پیکر نے اتوار کے روز جاری کردہ بیانات میں کہا ہے کہ انہیں برطانیہ میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔ دونوں شخصیات کا دعویٰ ہے کہ برطانوی حکام کے اس فیصلے کی وجہ ان کے، اسرائیل کے بارے میں جاری کردہ، عوامی بیانات ہیں۔
امریکہ میں قائم آن لائن سیاسی خبروں اور تبصروں کے نیٹ ورک "دی ینگ ٹرکس" کے شریک بانی جنگ اویغور نے کہا ہے کہ انہیں اس پابندی کا علم اُس وقت ہوا جب وہ 'ساوتھ بائے ساوتھ ویسٹ لندن' میں شرکت اور 'آکسفورڈ یونیورسٹی' میں خطاب کے لیے لندن روانہ ہونے والے تھے۔
اویغور نے ایکسسے جاری کردہ متعدد بیانات میں کہا ہےکہ برطانوی حکام نے انہیں مطلع کیا ہےکہ انہیں "عوامی نظم و ضبط کے لیے سنگین خطرہ" تصور کیا گیا ہے۔
اویغور نے کہا ہے کہ "برطانوی حکومت نے اسرائیل پر تنقید کی وجہ سے مجھے عوامی نظم و ضبط کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا اور اسی بنیاد پر مجھ پر پابندی لگائی گئی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا ہے کہ اگرچہ وہ اپنے بیانات کو حقائق پر مبنی قرار دیتے ہیں لیکن حکام نے امریکی سیاست پر اسرائیل کے اثر و رسوخ سے متعلق ان کے تبصروں کو "یہود دشمنی" کے زمرے میں رکھا ہے۔
اویغور کا مؤقف ہے کہ ان پر عائد پابندی برطانیہ سے متعلق کسی تبصرے کے باعث نہیں بلکہ امریکہ میں اسرائیل کے بارے میں دیئے گئے بیانات کی وجہ سے لگائی گئی ہے۔ انہوں نے حکومتی مؤقف میں موجود تضاد کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس صورتِ حال کو "مکمل طور پر کافکائی" قرار دیا ہے۔
اسی تقریب میں شرکت کے لیے سفر کی تیاری کرنے والے سیاسی مبصر اور مقبول لائیو اسٹریمر حسن پیکر نے بھی بعد ازاں ایکس سے جاری کردہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ ان کا برطانوی ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے۔ پیکر نے لکھا ہے کہ "برطانیہ نے میرا ویزا بھی منسوخ کر دیا ہے" اور یہ فیصلہ اسرائیل کے بارے میں ان کی تنقیدی آراء سے متعلق ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ پابندیاں چند ہفتے قبل برطانوی حکام کی طرف سے، ماضی میں دیئے گئے یہود مخالف بیانات کو بنیاد بنا کر، امریکی ریپر Ye (کانیے ویسٹ) کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا نے کے بعد سامنے آئی ہیں ۔ برطانوی حکام اُس وقت بھی منتظمین کی درخواستوں اور فنکار کی جانب سے فیصلے پر نظرِ ثانی کے، رائے عامہ کے لئے کھُلے، مطالبوں کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہے تھے۔











