ٹیکنالوجی کی دنیا کے ارب پتی 'ایلون مسک 'نے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو ’’اقتدار چھوڑ دینا چاہیے‘‘۔
مسک نے سوشل میڈیا ایکس پر لکھا ہے کہ ’’ قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے۔ زیلنسکی کے جانے کا وقت آ گیا ہے۔‘‘
دوسری طرف زیلنسکی نے اسپیس ایکس کے تیار کردہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ نظام اسٹارلنک کی سُست رفتاری کی شکایت کی اور مسک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس رفتار کو بحال کریں۔
کیف نے جنگ سے تباہ حال ملک کے لیے امریکی حمایت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ امریکہ ، کیف کو روس کے ممکنہ میزائل حملوں سے بےخبررکھ کے اور یوکرین کے مواصلاتی نظام میں استعمال ہونے والے سیٹلائٹ سسٹم میں تبدیلیاں کرکے روس کی مدد کر رہا ہے۔ اس طرح یوکرین کی فوجی جوابی کارروائی کی صلاحیت کمزور ہو رہی ہے۔
تاہم مسک نے کہا ہےکہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ کی ذمہ داری امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اسٹارشیلڈ اور اسٹارلنک کے درمیان فرق واضح کیااور کہا ہے کہ یوکرین میدانِ جنگ میں مواصلات کے لیے اسٹارشیلڈ پر انحصار کرتا ہے، جسے امریکی حکومت کنٹرول کرتی ہے، جبکہ اسٹارلنک ایک شہری سیٹلائٹ نظام ہے جسے یوکرین بھی استعمال کرتا ہے، تاہم اسے حملہ آور فوجی کارروائیوں میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
















