دنیا
4 منٹ پڑھنے
روس نے ہمارے پاور پلانٹ پر حملہ کیا ہے:یوکرین
پیر کو وارسا سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے زیلینسکی نے کہا کہ یوکرین نے اس تجویز کی حمایت کی ہے لیکن ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں دیکھا کہ روس اس پر راضی ہوا ہے۔
روس نے ہمارے پاور پلانٹ پر حملہ کیا ہے:یوکرین
زیلنسکی / Reuters Archive

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے توانائی کی جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد روس نے خارکیف میں ایک پاور پلانٹ پر حملہ کیا۔

پیر کو وارسا سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے زیلینسکی نے کہا کہ یوکرین نے اس تجویز کی حمایت کی ہے لیکن ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں دیکھا کہ روس اس پر راضی ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  "یہ توانائی کی جنگ بندی کام کر سکتی ہے، اور یہ جنگ کے خاتمے کی طرف ایک بڑا قدم بن سکتی ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ کیف واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات کا منتظر ہے۔

ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ روس اور یوکرین نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے فوری طور پر روکنے پر اتفاق کیا ہے تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

کریملن نے پیر کو کسی معاہدے کی تصدیق نہیں کی۔

ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ رابطے جاری ہیں اور ماسکو کسی بھی پیش رفت کا اعلان کرے گا۔

زیلینسکی نے کہا کہ "اگر روس بھی ایسا کرنے کے لیے تیار ہے تو ہم توانائی کی جنگ بندی کا احترام کرنے کے لیے تیار ہیں۔"

انہوں نے یہ وارننگ بھی دی کہ اگر روسی حملے جاری رہے تو یوکرین اس کا جواب دے گا۔

انہوں نے کہا کہ "اگر روس چاہتا ہے کہ ہم اس کی تیل صاف کرنے والے کارخانوں اور تیل کی برآمدات پر اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملے روک دیں، تو روس کو ہمارے توانائی کے نظام اور اہم بنیادی ڈھانچے پر اپنے حملے  اور ہمارے لوگوں کو مارنا بند کرنا ہوگا۔"

زیلینسکی نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ماسکو مجوزہ جنگ بندی کا احترام کرے۔

انہوں نے کہا، "ہمیں روس پر امریکی دباؤ کی ضرورت ہے، پابندیوں میں ریلیف یا رعایتیں نہیں، بلکہ حقیقی دباؤ چاہیے، تاکہ ہم کم از کم وہ حاصل کر سکیں جس کے بارے میں امریکی صدر نے کل پوسٹ کیا تھا ۔

انتخابات کے بارے میں پوچھے جانے پر، زیلینسکی نے موجودہ حالات میں ووٹنگ کرانے کو "کامل طور پر ناممکن" قرار دیا، جس کی وجہ انہوں نے جاری روسی حملوں اور فوجی اہلکاروں کی شرکت کو یقینی بنانے میں درپیش مشکلات کو بتایا۔

زیلینسکی نے کہا کہ اگر امریکہ کم از کم 60 دنوں کے لیے مکمل جنگ بندی کو یقینی بنا لے تو وہ انتخابات کرانے کا راستہ تلاش کرنے کے لیے پارلیمان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کے یہ  بیانات  ٹرمپ کے ہفتے کے روز یوکرین سے ایک نیا صدر لانے کے مطالبے کے بعد سامنے آئے۔

زیلینسکی نے کہاکہ  "اگر امریکی صدر اتنی شدید خواہش رکھتے ہیں، اور بالاخر انہوں نے روسیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیا ہے، انہوں نے ان پر سے پابندیاں ہٹا دی ہیں، تو وہ کریملن کے رہنما پر اثر انداز ہو کر مکمل جنگ بندی کروا سکتے ہیں۔ اور اگر ہمارے پاس کم از کم 60 دن کی مکمل جنگ بندی ہو تو میں انتخابات کرانے پر کام کرنے کے لیے تیار ہوں گا۔"

انہوں نے روسی ڈیزل کی برآمدات پر پابندیاں نرم کرنے کے واشنگٹن کے مبینہ فیصلے پر بھی تنقید کی، اور عالمی منڈیوں پر اس معاہدے کے ممکنہ اثرات پر سوال اٹھایا۔

زیلینسکی نے کہا کہ 300,000 سے 500,000 ٹن ماہانہ کے مبینہ حجم کا عالمی سپلائی پر بہت کم اثر پڑے گا جس کا اندازہ انہوں نے تقریباً 120 ملین ٹن ماہانہ لگایا۔

انہوں نے کہا، "آئیے یوکرین کے ساتھ ڈیزل کے معاہدے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔"

زیلینسکی نے دلیل دی کہ اگر واشنگٹن یوکرین کے توانائی گرڈ پر روسی حملوں کو روکنے میں مدد کرے تو کیف روسی تیل کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے باز رہ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم اس بات پر اثر انداز ہو رہے ہیں کہ آیا یہ بحری جہاز چل رہے ہیں یا نہیں۔ ہم یہ طے کرتے ہیں کہ آیا ریفائنریز کام کر رہی ہیں یا نہیں۔"

زیلینسکی نے خبردار کیا کہ سمندری تجارت میں مسلسل خلل افریقہ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے ان حصوں میں خوراک کی قلت کا سبب بن سکتا ہے جو یوکرائن کی زرعی برآمدات حاصل کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "دو سے تین مہینوں میں، ہر کوئی زراعت کے بحران کے بارے میں بات کر رہا ہوگا کیونکہ براعظم افریقہ کے ممالک، ایشیا کے کچھ ممالک اور مشرق وسطیٰ میں خوراک کی قلت ہو جائے گی، کیونکہ ہم ان منڈیوں کو لاکھوں ٹن خوراک برآمد کر رہے ہیں، اور اب سمندری راستہ بند کیا جا رہا ہے، اور ریاستہائے متحدہ امریکہ اس کو محسوس نہیں کر رہا۔"

 

دریافت کیجیے
اقوام متحدہ: "جبوتی کے ساحل پر فیری بوٹ حادثے میں 139 افراد جاں بحق، 84 لاپتہ
سعودی عرب کی ریاض میں وزارتی فورم میں بلا رکاوٹ توانائی کی فراہمی کی ضمانت
سعودی عرب: شاہ خالد ہوائی اڈے پر ایک اور مہلک حملہ، ایک شخص ہلاک 11 زخمی
ہماری شراکت داری سرحدوں سے کہیں آگے تک ہے: اردوعان
غاصب اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کی زیتون کی فصل چرا لی
اسرائیل نے ڈرون حملے کر کے پانچ فلسطینیوں کو قتل کر دیا
ٹرمپ: کنگ خالد ہوائی اڈے پر حملہ ایک ’’خوفناک واقعہ‘‘ ہے۔
سعودی عرب: کنگ خالد ہوائی اڈے پر حوثی حملے میں 12 افراد ہلاک
روس: اودیسا بندرگاہ میں فوجی کارگو بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے
نوبل امن ایوارڈ یافتہ ناوی پیلے نے اپنا ایوارڈ بین الاقوامی جرائم کا نشانہ بننے والوں کے نام کیا
ٹرمپ نوبل امن پرائز  کے انتخاب کو ٹرمپ نے "شرمناک" قرار دیا اور ناروے پر کڑی نکتہ چینی کی
پاناما میں عمارتوں اور سڑکوں کو تباہ کرنے والے زلزلے کے بعد 'عظیم آفت' کا اعلان کر دیا گیا
مسئلہ قبرص پر یورپی یونین مخلص نہیں ہے:شمالی ترک قبرص
کمشنر اقوام متحدہ کے روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں پر خدشات
امریکی فوج ملک میں مڈ ٹرم الیکشنز تک ایران کے خلاف حملوں کے آپشنز پر غور کر رہی ہے