بھارت کی مشرقی صوبے 'بہار 'میں دریائے گنگا میں مسافر کشتی الٹنے کے نتیجے میں15 سال یا اس سے کم عمر کے کم از کم 13 بچے ہلاک ہو گئےہیں۔
حادثہ منگل کو رات دیر گئے ضلع ویشالی میں پیش آیا۔ کشتی میں 15 سے 20 افراد سوار تھے جو، پڑوسی گاؤں میں منعقدہ، میلے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
ضلعی حکام کے مطابق، جائے وقوعہ پر بھیجی گئی ہنگامی امدادی ٹیموں نے دریا سے 13 افراد کی لاشیں نکال لی ہیں اور6 سے 7 مسافروں کو بچا لیا گیا ہے۔
ضلعے کے مجسٹریٹ ورشا سنگھ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ "منگل کو رات دیر گئے جب کشتی الٹی تو اس میں 15 سے 20 افراد سوار تھے"۔
سنگھ نے مزید کہا ہے کہ اب تک 13 افراد کی لاشیں مل چکی ہیں۔ مسافروں کی درست تعداد کی تصدیق اور کشتی میں سوار تمام افراد کی صورتِ حال معلوم کرنے کے لیے تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ اس حادثے سے ’’گہرے دکھ‘‘ کی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہےکہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کو مالی امداد دی جائے گی۔
مودی نے سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "اس مشکل وقت میں میری ہمدردیاں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جو اپنے پیاروں سے محروم ہو گئے ہیں۔ میں تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کا متمّنی ہوں۔ مقامی انتظامیہ متاثرہ افراد کو امداد فراہم کر رہی ہے۔‘‘
بہار کے نائب وزیرِاعلیٰ سمراٹ چودھری نے بھی اس حادثے کو "دل دہلا دینے والا" واقعہ قرار دیا۔
چودھری نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’’ویشالی کے راگھوپور علاقے میں کشتی کے حادثے میں معصوم جانوں کے نقصان کی خبر انتہائی دل خراش اور افسوس ناک ہے۔ اس مشکل وقت میں، میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ خدا جاں بحق ہونے والوں کی روحوں کو سکون عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو اس عظیم صدمے کو برداشت کرنے کی طاقت دے۔‘‘















