سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثیوں کے حملے میں 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہو گئے ہیں۔
اطلاع کے مطابق کل بروز ہفتہ یمن کے حوثیوں نے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ کیا جس میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہو گئے۔
سعودی عرب محکمہ شہری ہوا بازی کے حکام نے حملے میں 4 سعودی ، 2بنگلہ دیشی اور ایک ایک امریکی، مصری، اردنی، شامی، فلسطینی اور سوڈانی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ۔
طبی امدادی ٹیموں نے 309 زخمیوں کو دارالحکومت کے اسپتالوں میں منتقل کر دیا ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
حکام کے مطابق حملے میں ہوائی اڈے کے ٹرمینل کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور تکنیکی ٹیمیں نقصان کی شدت کا تعین کرنے کے لیے معائنہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پروازوں میں بڑے پیمانے پر خلل
ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے حملے سے فوراً بعد نقصان کا جائزہ لینے اور تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔
اس فیصلے کے باعث علاقائی فضائی آمدورفت میں شدید خلل پیدا ہوا ہے۔ مسافروں کو،ہوائی اڈے جانے سے پہلے اپنی ایئرلائنوں سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
کویت ایئرویز نے ہوائی اڈے کی ہنگامی بندش کو وجہ قرار دیتے ہوئے ہفتے کے روز ریاض آنے اور ریاض سے روانہ ہونے والی اپنی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
یہ حملہ ایسے وقت پر ہوا ہے کہ جب پہلے ہی، سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات پر مسلسل حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث، خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔
















