پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں آج بروز جمعرات ایک اسکول کی چھت گرنے سے 33 طلبہ اور 2 اساتذہ جان بحق اور 50 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال کے اہلکار محمد عاصم خان نے خبر رساں ادارے "اے ایف پی' کو فراہم کردہ معلومات میں اموات کی تعداد کی تصدیق کی اور کہا ہے کہ حادثے میں 30 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے چھ کی حالت تشویش ناک ہے۔
مقامی اخبار ڈان کے مطابق خان نے بتایا ہےکہ جاں بحق ہونے والے تمام بچوں کی عمریں 13 سال یا اس سے کم تھیں۔
خان نے مزید کہا ہے کہ اسپتال میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے اس سے قبل فراہم کردہ معلومات میں کہا تھا کہ امدادی ٹیموں نے طلبہ اور اساتذہ سمیت تقریباً 20 افراد کو ملبے سے نکال کر اسپتالوں میں منتقل کیا ہے۔
علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے ایکس سے بیان جاری کردہ بیان میں واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔
زرداری نے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو اعلیٰ ترین طبی امداد فراہم کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس سانحہ کی وجوہات کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔ زرداری نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جامع تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ تمام تعلیمی اداروں کی عمارتیں حفاظتی معیاروں پر پورا اترتی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں حفاظتی انتظامات کی کمی اور ناقص تعمیراتی مواد کے استعمال کے باعث عمارتوں کے منہدم ہونے کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔
رواں سال ماہِ جون میں لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک نجی تعلیمی مرکز کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔




















