فلسطینی سرزمین پر قابض 130 سے زائد اسرائیلیوں نے مقبوضہ مشرقی القدس میں واقع مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔
فلسطین انتظامیہ کے ماتحت 'القدس گورنر دفتر' نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں ایک انتہا پسند گروہ نے براستہ بابِ مغاربہ اندر داخل ہو کر مسجدِ اقصیٰ کے صحن پر چڑھائی کر دی۔
بیان کے مطابق، 133 افراد پر مشتمل اس انتہا پسند گروہ نے مسجدِ اقصیٰ کے صحن میں اشتعال انگیز گشت کیا اور مذہبی رسومات بھی ادا کیں۔
واضح رہے کہ یہودیوں کے مسجدِ اقصیٰ پر دھاوے تاریخی حیثیت اور موجودہ انتظامی صورتِ حال کے خلاف ہیں
26 اکتوبر 1994 کو اسرائیل اور اردن کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے مطابق، مسجدِ اقصیٰ اردن کی وزارتِ اوقاف، اسلامی امور اور مقدس مقامات کے ماتحت ادارے، القدس اسلامی اوقاف انتظامیہ کی نگرانی میں ہے۔
یہودی، سن 2003 سے اسلامی اوقاف انتظامیہ کی اجازت کے بغیر اور اسرائیل کے یک طرفہ فیصلے کے تحت پولیس کی حفاظت میں اس مقدس مقام کی بے حُرمتی کرتے چلے آ رہے ہیں۔
القدس اسلامی اوقاف انتظامیہ ان داخلوں کو ’’دھاوے‘‘ قرار دیتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ یہ مسلمانوں کے حقِ حکمرانی کی خلاف ورزی ہے۔
اسرائیلی حکام مسجدِ اقصیٰ کے احاطے کے نیچے، جہاں مسجدِ قبلی، قبۃ الصخرہ، عجائب گھر، مدارس اور وسیع صحن موجود ہیں، اس دعوے کی بنیاد پر کھدائی کر رہے ہیں کہ وہاں ’’حضرت سلیمان علیہ السلام کی ہیکل کے آثار‘‘ موجود ہیں۔
اسرائیلی حکومت کا دعویٰ ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی حیثیت اور موجودہ انتظامی صورتِ حال برقرار ہے، جس کے تحت صرف مسلمان وہاں عبادت کر سکتے ہیں، جبکہ دیگر مذاہب کے پیروکار صرف زیارت کے لیے آ سکتے ہیں۔
تاہم، اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ پر دھاووں کے دوران دعائیں کرنے اور مذہبی رسومات ادا کرنے کے مناظر اکثر کیمروں میں ریکارڈ ہوتے رہتے ہیں۔
دوسری جانب، اسرائیل کے اندر موجود الٹرا آرتھوڈوکس یہودی مذہبی علما کی اکثریت اس بات پر زور دیتی ہے کہ یہودیوں کے لیے مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہونا مذہبی اعتبار سے ممنوع ہے۔


















