چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ افریقہ کے معدنی وسائل افریقہ کے ہی ہیں اور انہوں نے اس صنعت کے لیے بیجنگ کے تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے ان جغرافیائی سیاسی رقابتوں کے خلاف خبردار کیا ہے جو اسے نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
چین اپنی سرکاری اور نجی کمپنیوں کے ذریعے، افریقہ کے قیمتی کان کنی کے شعبے، بالخصوص معدنیات نکالنے کے کام میں ایک اہم کھلاڑی ہے، اور وسائل تک رسائی حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل کئی بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔
منگل کو بیجنگ میں بوٹسوانا کے صدر دوما بوکوجن کا ملک کان کنی کی ایک وسیع صنعت رکھتا ہے ان کے ساتھ ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے کہا کہ اس اصول کو تسلیم کرنا کہ افریقی وسائل افریقہ کے ہیں، کسی بھی تعاون کے لیے ایک لازمی شرط ہونا چاہیے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق چینی رہنما نے کہا کہ "شرمناک بین الاقوامی تقسیمِ کار کی وجہ سے افریقہ کو صنعتی اور ویلیو چین میں سب سے نیچے دھکیل دیا گیا ہے۔
یہ ایک تاریخی ناانصافی ہے جس کا فوری ازالہ ضروری ہے۔
چینی رہنما نے ترقیاتی منصوبے تیار کرنے میں اپنے ملک کی مدد کی پیشکش کرتے ہوئے "اخلاقی اصولوں اور اقتصادی مفادات" کے درمیان توازن برقرار رکھنے پر زور دیا۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق، افریقی ممالک کے پاس دنیا کے تقریباً 30 فیصد اہم معدنی ذخائر موجود ہیں، جن میں کوبالٹ، تانبا لیتھیم، نکل اور نایاب عناصر شامل ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ خطہ تزویراتی وسائل کے لیے امریکہ اور چین کے درمیان مقابلے کا مرکز بنا ہوا ہے، جبکہ یورپی ممالک اور دیگر قوتیں بھی اپنے اثر و رسوخ کے لیے کوشاں ہیں۔
شی جن پنگ نے اپنے تاثرات میں کہا کہ "افریقی وسائل کو جغرافیائی سیاسی رقابتوں کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے"۔
انہوں نے اس عمل میں شامل تمام غیر ملکی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ "افریقہ کی ترقی میں خلوصِ دل سے اپنا حصہ ڈالیں" اور تعاون کے لیے ایک "مستحکم" ماحول برقرار رکھنے میں مدد کریں۔
چین افریقہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور پورے براعظم میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے لیے فنڈنگ کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
گزشتہ سال اعلان کردہ پالیسی کے تحت، بیجنگ نے یکم مئی سے ایسواتینی کے علاوہ تمام افریقی ممالک کے لیے محصولات سے پاک پالیسی نافذ کر دی ہے۔
کچھ ناقدین چین سمیت دیگر غیر ملکی قوتوں پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ افریقی ممالک اور وہاں کے عوام کو حقیقی فائدہ پہنچائے بغیر ان کے وسائل کا استحصال کر رہے ہیں۔
افریقہ کی ترقی کے لیے اپنے ملک کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ بیجنگ پاک-افریقہ معدنی تعاون کو مزید "صنعتی ویلیو ایڈیشن" کی طرف لے جانے کا خواہاں ہے۔
















