چلی کی اسٹوڈنٹ کنفیڈریشن کی جانب سے بلائی گئی ایک بڑی احتجاجی ریلی کے دوران بدھ کے روز ہزاروں طلبہ نے دارالحکومت سانٹیاگو کے وسطی علاقے کا رخ کیا، جہاں انہوں نے صدر ہوزے انتونیو کاسٹ کی کفایت شعاری کی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
بڑے پیمانے پر شروع ہونے والا یہ پرامن مظاہرہ بعد میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گیا جس کے نتیجے میں 12 پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 25 افراد زخمی ہو گئے۔
مقامی رپورٹس کے مطابق، یہ جھڑپیں اس وقت شدید ہوئیں جب مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور لاٹھیوں کا استعمال کیا، جس سے عوامی املاک کو نقصان پہنچا جس کے جواب میں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی۔
اس ہنگامہ آرائی کی وجہ سے وسطی سانٹیاگو کے کئی میٹرو اسٹیشنز کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا اور پورے دارالحکومت میں ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا۔
یہ مظاہرے صدر کاسٹ کے اس وسیع مالیاتی منصوبے کے خلاف کیے جا رہے ہیں جس کا ہدف اگلے 18 مہینوں میں عوامی اخراجات میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی کٹوتی کرنا ہے۔
اس منصوبے کے تحت تمام سرکاری وزارتوں کے بجٹ میں تقریباً 3 فیصد کی عمومی کمی کی جائے گی۔
طلبہ رہنماؤں، اساتذہ کی تنظیموں اور لیبر یونینز کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے سے شعبہ تعلیم سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ فنڈز میں اس کٹوتی سے اسکول، یونیورسٹیاں اور دیگر عوامی خدمات کمزور پڑ جائیں گی۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو مستقبل میں مزید بڑے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔








