برازیل کے سینیٹر فلاویو بولسونارو نے اکتوبر کے انتخابات میں صدر لویز اناسیو لولا ڈی سلوا کا مقابلہ کرنے کے لیے باضابطہ طور پر اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے، جس میں ارجنٹائن کے صدر جاویر مائلئی کی حمایت، ان کے قید والد کا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ پیغام اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کا ویڈیو خطاب پیش کیا گیا۔
بولسونارو نے ٹیکسوں میں کٹوتی اور جرائم کے خلاف سخت موقف کا عہد کیا، جبکہ اپنے والد جائر بولسونارو کی سیاسی میراث کو آگے بڑھانے کے عزم پر زور دیا۔
انہوں نے ساؤ پاؤلو میں انتخابی مہم کے آغاز کی ایک تقریب میں سبز اور پیلے رنگ کے جھنڈے لہرانے والے حامیوں سے کہا، "یہاں بولسونارو کا خون ہے۔"
سابق صدر جائر بولسونارو لولا کی جیت والے انتخابات کو الٹنے کی کوشش میں اپنے کردار کی وجہ سے نظر بند ہیں۔
سابق خاتونِ اول مشیل بولسونارو بھی فلاویو بولسونارو کی نامزدگی کی توثیق کرتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام میں نظر آئیں۔
انہوں نے کہا، "فلاویو، خدا آپ کی نامزدگی کو بابرکت بنائے اور آپ کی حفاظت کرے۔"
سینیٹر نے دسمبر میں اپنے والد کی تائید حاصل کر لی تھی، لیکن مئی میں لیک ہونے والے پیغامات کے بعد ان کی مہم کی رفتار سست پڑ گئی، جن میں ان کا تعلق قید بینکر ڈینیل وورکارو سے جوڑا گیا تھا۔ بعد میں سینیٹر نے تسلیم کیا تھا کہ وورکارو نے جائر بولسونارو کے سیاسی کیریئر پر بننے والی ایک فلم کی مالی معاونت کی تھی۔
ان کی مقبولیت مشیل بولسونارو کے ساتھ عوامی تنازع اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے بھی متاثر ہوئی ہے، جنہوں نے برازیلی اشیاء پر ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) عائد کیے ہیں۔
جمعے کے روز جاری ہونے والے ڈیٹا فولہا کے ایک سروے کے مطابق، دوسرے مرحلے کے ممکنہ مقابلے میں لولا کو بولسونارو پر 43 فیصد کے مقابلے میں 48 فیصد کی برتری حاصل ہے، جبکہ جون میں یہ شرح 43 فیصد کے مقابلے میں 47 فیصد تھی۔
بولسونارو سیاسی اتحاد قائم کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں، کیونکہ وسطی دائیں بازو کی جماعتوں نے اب تک ان کی نامزدگی کی توثیق کرنے کے بجائے غیر جانبدار رہنے کو ترجیح دی ہے۔"

















