صدرِایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن انتظامیہ عبوری معاہدے کی ذمہ داریاں پوری کرے تو تہران بھی اس کے مطابق جواب دے گا۔
ایرانی ایوانِ صدرکے بیان کے مطابق، پزشکیان نے کرغزستان کے دارالحکومت بیشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس میں خطے میں تازہ ترین حالات پر خطاب کیا۔
پزشکیان نے امریکہ کے ان کے ملک کے خلاف 28 فروری سے جاری حملوں کوشنگھائی تعاون تنظیم کے ایک رکن اور ایک قدیم تہذیب پر حملہ‘ قرار دیا ۔
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں تقریباً تین ماہ تک جاری مذاکرات کے بعد جون میں ایک معاہدے تک پہنچا گیا تھا، جسے ’اسلام آباد مفاہمت نامہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، انہوں نے واشنگٹن انتظامیہ پر وعدہ خلاف کا الزام بھی لگایا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ اس دستاویز، جس پر امریکی صدر کے دستخط موجود تھے، کے ساتھ امریکی وابستگی دو ہفتوں سے بھی کم عرصے تک برقرار رہی، اور اس کے بعد اس ملک نے غیر معقول مطالبات پیش کرناشروع کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی خلاف ورزی پر ایران نے ’متناسب جواب‘ دیا۔
پزشکیان نے کہا، "اگر امریکہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرتا ہے تو اسلامی جمہوریہ ایران بھی فوری طور پر کارروائی کرے گا۔"
یہ پیش رفت پورے خطے کے لیے خطرہ ہے
صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران، لبنان، غزہ اور مغربی کنارے میں حالیہ پیش رفتیں اس بات کی علامت ہیں کہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور طاقت اور دباؤ پر مبنی طریقہ کار جاری رکھا جا رہا ہے، جو نہ صرف مذکورہ علاقوں کی سلامتی بلکہ پورے خطے اور عالمی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے۔

















