نیپال اور چین میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں میں ہلاکتوں کی تعداد 1,000 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ امدادی ٹیمیں آفت کے باعث بیرونی دنیا سے کٹ جانے والی بستیوں تک پہنچنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
نیپال کی انسداد آفات ایجنسی نے ملک میں 987 افراد کی ہلاکت کا اعلان کیا، جبکہ چینی حکام نے اتوار کے روز اپنے آخری بیان میں تبت میں 16 افراد کی موت کی اطلاع دی تھی ۔
دونوں ممالک میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد اب 1,003 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 4,462 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
نیپال میں امدادی کام ساتویں دن میں داخل ہونے کے ساتھ ہی لاپتہ افراد کی تعداد کم ہو کر 3,916 رہ گئی ہےجبکہ چین میں 546 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔
لاپتہ افراد میں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں،
حکام کے مطابق، نیپال میں لاپتہ ہونے والوں میں 30 سے زائد مختلف قومیتوں کے 583 غیر ملکی شامل ہیں۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق، لاپتہ افراد میں 261 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔
لاپتہ غیر ملکیوں میں سب سے بڑے گروپوں میں سے ایک بھارتیوں کا ہے۔
نئی دہلی نے اعلان کیا ہے کہ نیپال میں 275 بھارتی شہری اور 128 بھارتی نژاد افراد لاپتہ ہیں۔
امریکی امور خارجہ نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں بتایا کہ 85 امریکی شہری لاپتہ ہیں۔
نیپال ٹورازم بورڈ اور غیر ملکی سفارت خانوں کے حوالوں سے سامنے آنے والی خبروں کے مطابق، 62 یوکرینی، 51 ملائیشین، 42 آسٹریلین اور 33 برطانوی شہری بھی لاپتہ ہیں۔
یہ آفت بدھ کے روز ہمالیہ کے بلند علاقوں میں رونما ہونے والے یکے بعد دیگرے واقعات سے شروع ہوئی ایک گلیشیئر کے گرنے کے نتیجے میں بڑی مقدار میں چٹانیں، برف اور پگھلا ہوا پانی نچلی وادیوں میں بہہ گیا جس سے دریاؤں کے زیریں علاقوں میں شدید سیلاب آ گیا۔
سیٹلائٹ تصاویر کا معائنہ کرنے والے سائنسدانوں نے بتایا کہ یہ تباہی ہمالیہ کے خطے میں ایک گلیشیئر کے نیچے موجود بنیادی چٹان کے گرنے سے متعلق معلوم ہوتی ہے۔ چٹان کا یہ گرنا اتنا شدید تھا کہ اسے 5.2 شدت کے زلزلے کے واقعے کے طور پر ریکارڈ کیا گیا۔













