فلسطین تحریکِ مزاحمت 'حماس' نے کہا ہے کہ غزہ بھر میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت اصل میں مختلف شکلوں میں جاری رکھی گئی جنگ ہے۔
حماس نے کہا ہے کہ غزّہ بھر پر اسرائیلی حملے، اب جنگ بندی کی انفرادی خلاف ورزیاں نہیں ، ’’مختلف شکلوں میں جاری جنگ‘‘ کے مترادف ہیں۔
حماس نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ ’’جنگی مجرم نیتن یاہو کی حکومت کی غزہ میں منظم فسطائی جارحیت کواب بکھری ہوئی خلاف ورزیوں کا سلسلہ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ خلاف ورزیاں مختلف شکلوں میں جاری جنگ ہےاور جنگ بندی معاہدے سے انکار ہے۔‘‘
حماس کے مطابق اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح حملے تیز کر دیئے اور ان حملوں میں کم از کم پانچ فلسطینیوں کو قتل اور متعدد کو زخمی کر دیا ہے۔
گروپ نے کہا ہے کہ کشیدگی میں اضافے میں غزہ کے جنوبی علاقوں میں گھروں کی مسماری، غزہ شہر کے ساحل کے قریب ماہی گیروں کو نشانہ بنا کر کی گئی فائرنگ اور پورے علاقے میں شہریوں پر براہِ راست حملے شامل ہیں۔
بین الاقوامی اور ثالثی کی مداخلت کا مطالبہ
حماس نے اپنے بیان میں ایک بار پھر علاقائی اور بین الاقوامی ثالثوں سے مداخلت کرنے اور اسرائیلی حکام کو جواب دہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’تحریک نے جنگ بندی معاہدے کے ثالثوں اور ضامنوں سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف ان صہیونی جرائم کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، فوری کارروائی کریں ، فلسطینی عوام کے خلاف جارحیت رکوانے کے لئے قابض حکومت پر دباؤ ڈالیں اور اس حکومت کو بین الاقوامی ضمانت کے تحت طے پانے والے معاہدے کی پابندی کرنے پر مجبور کریں۔‘‘
یہ حملے امریکہ کےصدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کئے گئے ہیں کہ جس میں انہوں نےاسرائیل سے علاقے پر بمباری بند کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا تھا کہ اسرائیل کو غزہ میں حملے نہیں کرنے چاہئیں ۔
واضح رہے کہ 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد سے جاری خلاف ورزیوں میں اسرائیل 1,320 فلسطینیوں کو قتل اور 4,385 کوزخمی کر چکا ہے۔ امدادی کارکنوں نے ملبے تلے سے بھی سینکڑوں لاشیں نکالی ہیں۔
غزہ وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل، اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اپنی نسل کشی کے دوران زیادہ تر عورتوں اور بچوں پر مشتمل کم از کم 73,454 فلسطینیوں کو قتل اور 174,486 افراد کو زخمی کر چُکا ہے۔



















