مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
امریکی پابندیوں کے خلاف یورپ کی خاموشی مایوس کن ہے:ایران
ایران نے یورپی یونین پر الزام لگایا ہے کہ وہ تہران کے خلاف پابندیوں کے معاملے میں واشنگٹن کا ساتھ دے کر اپنی قانونی اور سیاسی آزادی سے دستبردار ہو رہی ہے
امریکی پابندیوں کے خلاف یورپ کی خاموشی مایوس کن ہے:ایران
ایران-امریکہ / AA

ایران نے یورپی یونین پر الزام لگایا ہے کہ وہ تہران کے خلاف پابندیوں کے معاملے میں واشنگٹن کا ساتھ دے کر اپنی قانونی اور سیاسی آزادی سے دستبردار ہو رہی ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے یہ بلاک اپنی خودمختاری، قوانین و ضوابط، اقدار اور اخلاقی اصولوں کو امریکی دباؤ کے سامنے سرنگوں کر رہا ہے۔

ایکس (X) پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے ترجمان نے یورپی یونین کے اپنے "بلاگنگ اسٹیٹیوٹ"  کی طرف توجہ دلائی، جس کا مقصد یورپی کاروباری اداروں کو بیرونی پابندیوں کے ماورائے سرحد اثرات سے بچانا ہے۔

برسلز اس قسم کی ماورائے سرحد پابندیوں کو مسترد کرنے والے اپنے قانون کو برقرار رکھتے ہوئے ایران کے خلاف ریاستہائے متحدہ امریکہ کے یکطرفہ اقدامات کی کیسے حمایت کر سکتا ہے، اس پر سوال اٹھاتے ہوئے بقائی نے کہا کہ یورپی یونین نے 1996 میں امریکی پابندیوں کے جواب میں جب بلاکنگ اسٹیٹیوٹ کو قبول کیا تھا تو اس وقت اس کا مؤقف بالکل مختلف تھا، جبکہ آج وہ واشنگٹن کے غیر قانونی اقدامات میں شراکت دار بن چکی ہے۔

بقائی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ واشنگٹن کی دباؤ کی مہم کی حمایت کرنا اور ساتھ ہی ساتھ کشیدگی کو کم کرنے اور علاقائی استحکام کی اپیل کرنا آپس میں متضاد رویے ہیں، اور انہوں نے خبردار کیا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کو ایران کے خلاف امریکی اقتصادی اقدامات کی حمایت کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اتوار کے روز آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے جزیرہ لارک پر امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے، جن کے بارے میں ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ان حملوں میں دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

ایران نے بعد میں اعلان کیا تھا کہ وہ اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی افواج کے زیرِ استعمال تنصیبات پر جوابی حملے کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایک ایسے اقدام کا اعلان کیا تھا جسے انہوں نے کسی بھی ملک کے خلاف اب تک کا سب سے سخت اقتصادی آپریشن قرار دیا تھا۔

ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اس کوشش کا مقصد تہران کے مالیاتی ذرائع کو بند کرنا ہے اور انہوں نے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں یا سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے ایران کو معاشی مدد فراہم کرنے والے ممالک کو ان سنگین معاشی نتائج کے بارے میں انتباہ دیا تھا جن کا انہیں سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

 

دریافت کیجیے
اسرائیلی وزیر بن گویر نے فلسطینی خواتین قیدیوں کی تذلیل کی
فوجی تنصیب کو وسعت دینے کی خاطر فلسطینی زمین غصب کر لی
گرینڈ کینن میں اچانک شدت کے سیلاب کے بعد کم از کم 20 افراد لاپتہ
الجزائر: جنگلات کو قصداً جلانے والوں کو سزائے موت دی جائے
ترکیہ: اسرائیلی وزارتِ خارجہ کی ہرزہ سرائی اسرائیلی حکومت کی فرسودہ ذہنیت کی عکاس ہے
شام کے جنوبی علاقوں پر اسرائیلی حملے
کینیڈا: اونٹاریو جھیل، آج اور ہمیشہ کے لیے اونٹاریو جھیل
ونیزویلا: امریکہ کے ساتھ توانائی کا معاہدہ 25 سال تک برقرار رہے گا
سوٹزرلینڈ: محفلِ موسیقی میں فائرنگ، متعدد افراد زخمی
ترکیہ نے یوکرین کے سفیر کو طلب کر لیا
سوڈانی فوج نے بلو نائل کے محاذ پر اپنی ایک خاص بریگیڈ تعینات کردی
وزارت خارجہ کے ترجمان کیچیلی کا یونان کے حوالے سے بیان
ایران جنگ امریکی عسکری ذخائر کو ختم کر رہی ہے،  اس کی عالمی مزاحمت کو کمزور کر رہی ہے: رپورٹ
پیزشکیان: اگر امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے
یوکرین بڑے پیمانے کے ڈراون حملوں کے ساتھ روس کے روستوف علاقے کو نشانہ بنا رہا ہے