اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی القدس کے جنوبی حصے میں تقریباً 650 رہائشی مکانات پر مشتمل ایک نئے غیر قانونی بستی منصوبے کو آگے بڑھانا شروع کر دیا ہے۔
فلسطین کے القدس گورنر دفتر نے پیر کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی علاقائی منصوبہ بندی اور تعمیراتی کمیٹی نے ’’نوفی راحیل‘‘ نامی رہائشی بستی منصوبے کو عوامی جائزے کے لیے پیش کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ فلسطینی گھروں کے قریب تقریباً 27 ایکڑ رقبے پر محیط ہوگا۔
گورنر دفتر نے خبردار کیا ہےکہ اس منصوبے کے اثرات صرف مجوزہ رہائشی مکانات کی تعداد تک محدود نہیں ہوں گے، بلکہ اپنے محلِ وقوع کے باعث منصوبہ علاقے میں مقیم فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی کو بھی براہِ راست متاثر کرے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ اسرائیل کی ان غیر قانونی آبادکاری پالیسیوں کا حصہ ہے جن کا مقصد بستیوں کو وسعت دینا، زمینی حقائق کو تبدیل کرنا اور فلسطینی آبادی کی موجودگی اور شہری توسیع کو محدود کرنا ہے۔
پیر ہی کے روز اسرائیلی تنظیم برائے انسانی حقوق ’’عیر عمیم‘‘ نے بھی کہا ہے کہ اسرائیل نے حالیہ ہفتوں کے دوران مقبوضہ مشرقی القدس میں، مجموعی طور پر 3,400 سے زائد رہائشی مکانات پر مشتمل، تین بڑے غیر قانونی آبادکاری منصوبوں کو آگے بڑھایا ہے ۔
اقوام متحدہ اور بیشتر ممالک، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تعمیر کی جانے والی، اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ بستیاں دو ریاستی حل کے امکانات کو کمزور کررہی ہیں۔
اسرائیلی تنظیم ’’پیس ناؤ‘‘ کا اندازہ ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً 500,000 غیر قانونی اسرائیلی آبادکار اور مقبوضہ مشرقی القدس میں غیر قانونی بستیوں میں مزید تقریباً 250,000 افراد آباد ہیں۔













