ملائیشیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کی ممانعت پر مبنی نئے قواعد و ضوابط نافذ کر دیئے ہیں۔ اس قانونی کاروائی کے بعد ملائیشیا، نوجوان صارفین کی آن لائن حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے جاری، عالمی کوششوں میں شامل ہو گیا ہے۔
اس ضابطے کے تحت کم از کم آٹھ ملین صارفین والے فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت تمام پلیٹ فارم عمر کی تصدیق کا مؤثر نظام قائم کرنے اور کم عمر افراد کے اکاؤنٹوں کو روکنے کے پابند ہوں گے۔
ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر 10 ملین رنگٹ (تقریباً 25 لاکھ امریکی ڈالر) تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ تاہم، اگر بچے ان پابندیوں کو نظرانداز کر کے اکاؤنٹ بنا لیتے ہیں تو والدین پر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔
ملائیشیا کمیشن برائے مواصلات و ملٹی میڈیا نے وضاحت کی ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بچوں کی ڈیجیٹل رسائی کو مکمل طور پر محدود کرنا نہیں انہیں سائبر دھونس، نقصان دہ مواد اور ایسی پلیٹ فارم ڈیزائن حکمتِ عملیوں سے محفوظ رکھنا ہے جو بچوں میں ان کی لت پیدا کر سکتی ہیں۔
ان قواعد و ضوابط کا اطلاق کر کے ملائیشیا ، ترکیہ، آسٹریلیا، برازیل اور انڈونیشیا جیسے اُن ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو عمر کی بنیاد پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندیاں یا ضوابط نافذ کر رہے ہیں ۔
ترکیہ نے بھی رواں سال کے آغاز میں ایسے ضوابط متعارف کرائے ہیں جن کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر رجسٹریشن ممنوع قرار دے دی گئی اور سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو عمر کی تصدیق کے نظام اور بچوں کی عمر کے مطابق حفاظتی خصوصیات نافذ کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔











